ایران اور روس کو خطے میں ضبط نفس سے کام لینا چاہیئے: سابقہ فرانسیسی وزیر - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 26 دسمبر, 2016
0

ایران اور روس کو خطے میں ضبط نفس سے کام لینا چاہیئے: سابقہ فرانسیسی وزیر

ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سعودی عرب کے ساتھ اپنی شراکت داری پر اعتماد کرتی ہے
1482702396379737000

رچیدہ داتی

ریاض: فتح الرحمن یوسف

       یورپی پارلیمنٹ کی رکن اور سابقہ فرانسیسی وزیر انصاف "رچیدہ داتی” نے بین الاقوامی برادری سے شام میں جنگ، تباہی اور ہلاکتوں کے خاتمہ کے لئے انتہائی مضبوط مخلصانہ رویہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم شامی اور یمنی سانحات سے نمٹنے کے لئے دوہرہ رویہ ہرگز قبول نہیں کریں گے”۔

        فرانسیسی پارلیمنٹ کی رکن نے ایران اور روس پرزور دیا کہ وہ ضبط نفس سے کام لیتے ہوئے تعمیری اقدامات کریں، خاتون رکن نے یقین دہانی کی کہ یورپی یونین ان دونوں کی طرف سے جاری اس تباہ کن طریقۂ کار پر ان کی ہرگز حمایت نہیں کرے گی۔ ایرانی پروگرام سے احتیاط کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے خطے میں عدم استحکام اور عدم تحفظ کے لئے استعمال نہ کرے۔

        سابقہ وزیر نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اس بات کا احساس ہے کہ دہشت گردی کے سد باب کی کاروائی میں سعودی عرب کی حیثیت ایک کنجی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس(سعودی عرب) کی کوششوں، طریقۂ کار اور اس کی پالیسیوں کی کامیابیوں نے بین الاقوامی امن و تحفظ پر مثبت اثرات مرتب کئے ہیں جسے تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یورپی پارلیمنٹ کے بعض ارکان کی طرف سے جہالت کی بنا پر اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

 

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>