بڑھتی ہوئی آبادی اور سعودی وژن - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: بدھ, 28 دسمبر, 2016
0

بڑھتی ہوئی آبادی اور سعودی وژن

         آبادی میں غیر معمولی اضافہ، سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو ترقی کی ٹرین کو بند کر سکتا ہے، یہ ترقی کی رفتار اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کے درمیان سست روی پیدا کرتا ہے۔

        سعودی عرب نے اپنی ترقی کی راہ میں ایک نئی ٹرین کا آغاز کیا ہے۔ جس میں معاشی تشخص کے انقلابی پہلو کو اس کی تشکیل نو کے دوران ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس میں دہی معیشت، فلاح وبہبود کے لئے ریاستی ضمانت، بھاری نجی معیشت، قومی آمدنی کے تنوع سے مستقبل کے ہدف "سعودی وژن 2030” کے منصوبے کی تفصیلات کی وضاحت ہوتی ہے، جس کا عملی آغاز چند روز قبل حالیہ بجٹ کے اعلان کے ساتھ کیا گیا۔

       اسی ضمن میں سعودی اعداد وشمار کے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ صرف گورنریٹ ریاض کی آبادی 80 لاکھ افراد تک پہنچ چکی ہے۔ اس میں سعودی افراد کی تعداد 50٫4 لاکھ اور یہاں رہائش اختیار کرنے والے افراد کی تعداد 40٫3 لاکھ ہے۔ یاد رہے کہ سن 2016 کے اعداد وشمار کے مطابق سعودی عرب  کی خود کی آبادی 30874231 تک پہنچ چکی ہے۔

        ان سب کا مطلب یہ ہوا کہ سعودیہ کی آبادی میں پریشان کن حد تک تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ جب ہم آبادی میں اضافہ کہتے ہیں تو اس سے مراد صرف یہاں کے شہری ہی نہیں بلکہ یہاں پر مقیم افراد بھی شمار کئے جاتے ہیں جو کہ خانہ جنگی والے کئی عرب اور دیگر ممالک وغیرہ سے آ کرسعودیہ میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ جبکہ سعودی لیبر مارکیٹ میں عرب و غیر عرب پوری دنیا سے اور خاص طور سے ایشیا کے محنت کش افراد ان کے علاوہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے عوامی خدمات کے لائسنس اور رہنے کی قیمت کا عمومی معیشت میں ان سب پر کنٹرول کے علاوہ اور اس کا کیا معنی ہو سکتا ہے؟

       یعنی اشیاء، خدمات، توانائی اور عوامی وسائل پر شدید دباؤ ہے، مثلا ہسپتال، تعلیمی نشستوں اور ملازمتوں وغیرہ کے وسائل کا استعمال تیزی سے ہو رہا ہے۔

      لیکن آبادی میں اضافہ کب مفید ہو سکتا ہے؟

     "اگر اس اضافہ کے مد مقابل ملکی حقیقی پیداوار میں بھی اضافہ ہو تب۔ کیونکہ اس طرح سے آبادی میں اضافہ سے غربت کی شرح میں کمی اور اوسط آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ آبادی میں اضافہ معیار زندگی میں، یا بنیادی خدمات کی دستیابی میں، یا پھر ان خدمات کے معیار میں خرابی وکمی کا باعث نہیں ہوتا اور نہ ہی آبادی میں اضافہ ماحولیاتی نقصان اور قدرتی وسائل میں کمی کا باعث بنتا ہے”۔ (منتصر ابو الحجاج الاقصری  "الاھرام”)

      آخر میں مسئلہ پر "دینی” بحث جو کہ فیصلہ کن نہیں ہے، کیونکہ بعض خاندانی منصوبہ بندی کو حرام قرار دیتے ہیں اور جبکہ بعض مصلحت کے تحت اسے مباح قرار دیتے ہیں۔ جو اس بارے میں مزیدجاننا چاہے یہ بحث اپنے دلائل کے ساتھ موجود ہے۔ اس میں فقہ کی مثال لے لیں کہ اہل سنت کے مذاہب کے چاروں آئمہ کے ہاں اولاد کی کثرت نہیں تھی، امام ابو حنیفہؒ کے ہاں صرف حماد، امام شافعیؒ کے ہاں عثمان اور محمد، امام احمد بن حنبلؒ کے ہاں صالح اور عبد اللہ اور جبکہ امام مالک بن انس ؒکے ہاں صرف یحییٰ پیدا ہوئے۔

      دیکھنے میں آیا ہے کہ آبادی میں اضافہ سے مہارتوں اور پیداوار میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ نتیجہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ لہذا آپ کو جرأت کے ساتھ اس کا سامنا کرنا ہوگا اور خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ تاکہ نئی سعودی ٹرین بلا کسی رکاوٹ کے اپنا سفر جاری رکھے۔

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>