روس – ترک معاہدہ میں غیر یقینی صورت حال - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: جمعرات, 29 دسمبر, 2016
0

روس – ترک معاہدہ میں غیر یقینی صورت حال

شام میں اثر و رسوخ کے علاقوں میں بڑھتی ہوئی بات …اور کرد اپنے وفاق کی تیاری کر رہے ہیں

kmiokoieriyiitiititittiti

 

انقرہ: سعيد عبد الرازق – بيروت: كارولين عاكوم اور بولا اسطيح

     روس اور شامی اپوزیشن کو کل ترکی کی طرف سے جاری اس بیان پر حیرانگی ہوئی جو انقرہ اور ماسکو کے مابین پورے شام میں غیر یقینی شقوں کے ساتھ جنگ بندی کے سمجھوتے سے متعلق ہے۔ جس میں کل ترک وزیر خارجہ جاویش اوغلو نے سمجھوتے تک پہنچنے کا اعلان کیا ہے اور جبکہ کل کرملین کے ترجمان نے ناکافی معلومات کے سبب ماسکو کی جانب سے اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے خاموشی اختیار کئے رکھی۔

      جاویش اوغلو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: "شام کے حل کے بارے میں دو مسودے تیار ہو چکے ہیں؛ پہلا سیاسی حل کے بارے میں ہے اور دوسرا جنگ بندی سے متعلق – ان دونوں کو کسی بھی وقت لاگو کیا جا سکتا ہے”۔

     دریں اثناء ذرائع نے روس، ترکی اور ایران کے مابین معاہدے کے "فریم ورک” کا انکشاف کیا ہے جس کے مطابق علاقائی طاقتوں کے اثر و رسوخ کی بنا پر شام کو تقسیم کیا جائے گا اور بشار الاسد  مزید چند سالوں کے لئے صدر برقرار رہیں گے۔ اخباری ایجنسی (رویٹرز) نے ذرائع کے بیان کو نقل کیا کہ اس قسم کے معاہدے سے وفاقی ڈھانچے میں خود مختاری کی اجازت ملے گی جس پر اسد کا کنٹرول ہوگا۔

      دوسری جانب، شمالی شام کے علاقوں میں اپنا کنٹرول بڑھاتی ہوئیں کردی افواج اور ان کی حلیف جماعتیں ہفتے کے آغاز سے ہی وفاقی علاقے کےآئین کی منظوری کے لئے رمیلان نامی علاقے میں اجلاس منعقد کر رہی ہیں، جو کہ آستانہ میں علاقائی اور بین الاقوامی سرپرستی میں شامی اپوزیشن اور حکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات سے قبل ہے۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>