روس کے اختیارات: قتل وقتال یا مذاکرات - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
عبد الرحمن الراشد
کو: جمعہ, 30 دسمبر, 2016
0

روس کے اختیارات: قتل وقتال یا مذاکرات

        روسی جہاز کا گرنا اور ترکی میں روسی سفیر کا قتل  ہونا یہ کوئی ایسے سنگین معاملے نہیں ہیں کہ کرملین اپنی سیای پالیسی کو بد ل دے۔ علاقائی وبین الاقوامی کشمکش اور اپوزیشن کا جنگ پر اصرار یہ دونوں بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور ان کا بہت اثر ہے حتی کے حلب کے زوال اور اس پر روس،  ایران اور شامی حکومت کے مکمل قبضہ کے بعد بھی اپوزیشن نے سفید جھنڈے بلند نہیں کئے۔  جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ ہمیں اشارہ کر رہی ہے کہ ہم یک دوسرے سال کے قریب ہیں اور کسی نے بھی حقیقی کامیابی کا جشن نہیں منایا ہے۔

        اس کے علاوہ روسی حکومت کا شام کے مقبوضہ علاقوں میں دعائیہ تقریب کے اہتمام کرنے سے معلو ہوتا ہے کہ وہ سیاسی حل کے مذاکرات کے سایہ میں شامی حکومت کی صفائی کرنے  اور اسے دوبارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ ایک ایسا مشن ہے جس کی کامیابی کا  کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔

        میں پچھلے دنوں روس کے آئندہ رجحانات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا  کہ حلب کے زوال جیسے بڑے المیہ اور واشنگٹن میں براک اوباما حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کا رخ کس سمت ہوگا یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو ماسکو کا عزم وارادہ یہ ہوگا کہ جنگ مکمل ہو اور پورے شام پر شامی اور ایرانی حکومت کا قبضہ ہو اور یہ مکمل فتح مندی طاقت وقوت کے زور پر ہو جس کا مطلب یہ ہوا کہ آئندہ سال جنگ کا دوسرا سال ہوگا ، یا روس کا ارادہ یہ ہوگا کہ وہ اپنی فوجی وجود سے فائدہ اٹھا کر ایک درمیانہ سیاسی حل تلاش کرے ۔ روس کی قوت ہی نے اپنی ایئر فورس اور انٹیلی جنس کے ذریعہ مداخلت کر کے شامی اور ایرانی حکومت کو جنگ میں شکشت کھانے سے بچایا ہے۔ اسی طرح اس نے اس  کام کو انجام دینے کے لیےسلامتی کونسل میں سفارت کاری کا استعمال کیا۔

        اس سلسلہ میں میں نے دو مخالف رائے سنی ہے ایک اس بات کی تائید کرتی ہے کہ ماسکو وہ کام کرنے کو تیار ہے جس میں واشنگٹن ناکام ہو چکا ہے یعنی وہ اپوزیشن اور شامی حکومت دونوں کو متحد کر کے ایک مخلوط حکومت کی تشکیل دینا چاہتا ہے لیکن اس نئی حکومت کے قانون میں دونوں فریقین کے رموز واشارات کالعدم قرار دئے جائیں گے اور دوسری رائے ایسی ہے جس میں اس مذکورہ رائے کی بالکل نفی  ہے، اس رائے میں  اس بات پر اصرار ہے کہ ماسکو نے دو سال میں پیش کردہ اپنی تجویز کے ذریعہ کچھ بھی نہیں بدل سکا یعنی وہ  تجویز یہ ہے کہ اسد کی حکومت قائم رہے، اپوزیشن حاشیہ پر رہیں اور اپوزیشن کے علاقوں پر مرکزی حکومت کے قبضہ کو کم کرنے کے صرف وعدے ہی ہوں جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اسد کی حکومت مضبوط ہی رہے گی کیونکہ گورنریٹ کے لئے مستقل آزاد قوت اور انتخابات کے ذریعہ دئے گئے مستقبل کے وعدے سب جعلی ہیں اور یہ سب کچھ ایک ایسی جابرانہ حکومت کے لئے ہے جس نے لاکھوں لوگوں کو قتل کرنے اور ان کو نقل مکانی پر مجبور کرنے میں کچھ بھی تردد نہیں کیا۔

        ایک ماہر شخص کی رائےیہ بھی ہے کہ اپوزیشن کا خاتمہ اسی وقت ہو گیا جب ترکی نے واپسی اختیار کی،  حلب کے نتائج کو قبول کیا اور انقرہ نے یہ تصور کیا کہ اب اس کا مقصد کرد اور داعش سے جنگ کرنا ہے لہذا اس بنیاد پر اپوزیشن کو بڑوں کے مذاکرات کو قبول کر لینا چاہئے تھا۔

        جہاں تک دوسری رائے کی بات ہے تو اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ شام کی صورتحال ہی کی وجہ سے ترکی خلیج اور خطے کے ممالک میں یہ سب واقعات پیش آئے ہیں نہ کے خطے کے ممالک کی وجہ سے اس المیہ کا وجود عمل میں آیا ہے اور مزید یہ کہ حلب سے اپوزیشن کے نکل جانے اور ترکی کا شامی اپوزیشن کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لینے کی وجہ سے یہ آگ بجھنے والی نہیں ہے کیونکہ ابھی ایک تہائی حصہ ہے جس پر شامی حکومت کا قبضہ نہیں ہے اور اس کا ایک حصہ اسٹریٹجک ہے جیسے کہ ریف دمشق جس پر شامی حکومت نے ایرانی میلیشیاؤں کے ساتھ بمباری شروع کر دی ہے۔ سینکڑوں جنگجو خواہ ان تعلق مسلح اپوزیشن فوج سے ہو یا دہشت گرد جماعتوں سے ہو وہ مذاکرات اور روسی اور ایرانی حکومت کے فارمولہ کو نافذ نہیں ہونے دیں گے جب تک کہ یہ فارمولہ بنیادی سیاسی مطالبوں پر مشتمل نہ ہو۔  اگر روسی مذاکرات کرنے والوں نے حقیقی طور پر کسی درمیانہ حل کا فیصلہ کر لیا ہے اور اپوزیشن کے مناسب تجویزات پیش کیا ہے تو اس کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہوگا اور کچھ دہشت گرد جماعتیں باقی رہیں گی جن کو سیاسی حل کی عوامی تائید کے ذریعہ ختم کیا جا سکے گا۔

        ہم یقینی طور پر نہیں کہ سکتے کہ آئندہ ہفتوں میں واقعات کس سمت ہوں گے لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ روس ہی وہ تنہا ملک ہے جو اس معاملہ کا فیصلہ کرے گا  کیونکہ نہ امریکہ اس قابل ہے اور نہ ایران کہ یہ اس سلسلہ میں کچھ فیصلہ کر سکیں ۔ اس سلسلہ میں صرف اور صرف روس ہی قادر ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کیا جنگ مسلسل جاری رہے گی یا ختم ہو جائے گی۔  مجھے توقع نہیں ہے حتی کہ ایران کے سلسلہ میں بھی کہ وہ جنگ جاری رکھنے کا خواہشمند ہو جبکہ وہ شامی حکومت کا معاون ومددگار ہے کیونکہ  اس میں داخلی اور خارجی دونوں اعتبار سے بہت خرچ ہوتا ہے اور اس کو معلوم ہے کہ وہ اپنے عزم وارادہ میں ناکام ہے اسی لئے اس نے روسی طاقت وقوت کا سہارا لیا اور ایرانی حکومت کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ ایسے علاقہ میں نصف کامیابی حاصل کرکے واپس ہونا مسلسل جنگ جاری رکھنے سے بہتر ہے وہ بھی ایسے علاقوں میں  جہاں کے لوگ اس کے دشمن ہوں۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>