پوٹن معاملہ کی سنگینی سے بچتے ہویے ٹرمپ کی سیاست کے منتظر - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 31 دسمبر, 2016
0

پوٹن معاملہ کی سنگینی سے بچتے ہویے ٹرمپ کی سیاست کے منتظر

2

کل ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن تاریخی فلموں کے منتظم کانسٹنٹائن ارنسٹ سے ملاقات کے دوران ایک تلوار اٹھائے ہویے

ماسکو: طہ عبد الواحد

         توقعات کے برعکس روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اس وقت تحمل کا مظاہرہ کیا  جب امریکی صدر براک اوباما نے  پرسوں سخت اقدامات اٹھاتے ہویے دسیوں روسی سفارتکاروں کو واپس روس بھیج دیا ۔

         کل پوٹن نے اعلان کیا  کہ روس امریکی سفارت کاروں کو واپس ملک نہیں بھیجے گا لیکن انہوں نے پرزور انداز میں یہ کہا کہ روس کو حق حاصل ہے کہ وہ ان پابندیوں کا جواب مناسب انداز میں دے۔ اسی کے ساتھ انہوں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ابھی ماسکو  کے پاس یہ حق محفوظ ہے لیکن اوباما  انتظامیہ کی کاروائیوں کے نتیجہ میں وہ ڈپلومیٹک کچن کی حد تک نہیں جائے گا۔

        انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور روس کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے اگلے اقدامات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پالیسی سے شروع کئے جائیں گے۔

        روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کرملین کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ 35 امریکی سفارت کاروں کو واپس بھیج دیا جائے اور انہیں ماسکو  کے "سیرے رایانی پورٹ” میں واقع دیہی گھروں کے استعمال کرنے سے منع کر دیا جائے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>