ایک طویل ہندوستانی فلم: نہ بیٹے نہ بجلی اور نہ پیاز - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
سمیر عطاء اللہ
کو: اتوار, 1 جنوری, 2017
0

ایک طویل ہندوستانی فلم: نہ بیٹے نہ بجلی اور نہ پیاز

         ہندستان میں مختلف ادیان ومذاہب کے ماننے والے ہیں مختلف فرقے اور مختلف جماعتیں ہیں۔ سیکٹو مہتا اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”بہت دور شہر“ میں جین مذہب کے ماننے والوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لیھتے ہیں کہ ان کی تعداد ایک کروڑ ہے  اور ان میں بیس ہزار کی تعداد میں راہب ہیں۔ جو لوگ رہبانیت کی زندگی اختیار کرتے ہیں اگر وہ شادی شدہ ہیں تو ان پر ضروری ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ دیں،  ان سے ملنے اور بات کرنے کے لئے بھی نہ آئیں مگر کہیں دور کسی علاقہ میں اچانک ملاقات ہو گئی تو الگ بات ہے ۔ راہبوں پر بجلی اور جلانے کی دوسری چیزیں حرام ہیں اور صرف بیمار لوگ ہی لفٹ استعمال کر سکتے ہیں۔

        ان کے افکار کے مطابق تیل کی تلاش کی وجہ سے سانپ اور اس طرح کے رینگنے والے دوسرے جانور مر جاتے ہیں۔  بجلی پیدا کرنے کے لئے حد بندی کی وجہ سے مچھلی اور مگرمچھ مر جاتے ہیں حتی کے گھر میں استعمال ہونے والے چراغوں سے بہت سے پتنگے مر جاتے جن کا مارنا صحیح نہیں ہے۔  اگر وہ کسی گھر کی گھنٹی بجانے کے لئے مجبور ہوتے ہیں تو وہ کسی اور سے گھنٹی بجانے کا مطالبہ کرتے ہیں، اس کے بعد پھر وہ صاحب خانہ سے ٹیلی ویزن بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ اگر ان کی نگاہ ٹیلی ویزن پر  پڑ گئی تو یہ ان کے نزدیک ایسا جرم ہے  کہ اس کی وجہ سے وہ سیدھا جہنم میں جائیں گے۔

       رہبانیت اختیار کرنے والوں پر پانچ نذریں لازم اور ضروری ہیں ۔ تشدد نہیں، جھوٹ نہیں، چوری نہیں، جنس پرستی نہیں اور جذباتی احساس نہیں۔ راہب اور راہبہ پر ضروری ہے کہ وہ پوری عمر کپڑے کے دو ٹکڑے پر ہی اکتفاء کریں ۔  یہ لوگ ہر چھ مہینہ تک اپنے بال چھوڑ دیتے ہیں کٹواتے نہیں ہیں ۔ ان کے پاس نہ جوتا ہوتا ہے نا موبائل اور نا گاڑی ہوتی ہے نا بجلی اور وہ پوری زندگی نہاتے نہیں ہیں نہ ندی میں نہ سمندر میں اور نہ تالاب میں۔ شروع سے اخیر تک ان کو اس بات کی اجازت  ہوتی ہے کہ وہ کسی بھیگے ہوئے کپڑے سے اپنے جسم کو پوچھ لیں۔  اسی طرح ان کو اس بات کی بھی اجازت  ہوتی ہے کہ وہ مہینہ میں ایک مرتبہ اپنے کپڑے دھو لیں۔

         صحیح معنی میں راہب بن جانے کے بعد ان کو یہ حق ہوتا ہے کہ  وہ ممبئی کے علاوہ کسی بھی جگہ منقسم خاندانوں کے پاس جائیں۔  اسی طرح ہر سال رہبانیت میں ضم ہونے کی قسم کھانے والے لوگوں کے پاس بھی جائیں۔ بعض مالدار اور ماس کے تاجر لوگ جنہوں نے اپنی زندگی میں ہر قسم  گناہ کئے ہیں لیکن رہبانیت اختیار کرنے کے بعد بالکل بدل گئے ہیں۔ ان کے پاس  کچھ بھی نہیں ہے وہ اور ان کے بچوں کی زندگی بالکل بدل گئی حتی کہ پسندیدہ فلم سٹار کی فلمیں بھی ممنوع ہو گئیں بلکہ ان کا ذکر تک اب نہیں ہوتا ہے یہ ہے ان کے نزدیک مطلق سعادت مندی۔

        پھر جین مذہب کے ماننے والوں کا کھانہ کیا ہے؟ ان کا کھانہ ہر وہ چیز ہے جو زمین کے اوپر پیدا ہوتی ہے نہ پیاز نہ آلو اور نہ لہسن ۔ اسی طرح وہ لوگ ہر وہ چیز نہیں کھاتے ہیں جس کی وجہ سے زمیں کھودی جاتی ہے ۔ جین مذہب کے اندر چوراسی طریقہ ہے جن میں ایک وہ ہے جو فقراء کے لئے چوری کو جائز قرار دیتا ہے۔ مذہب کا سربراہ اپنے پیروکاروں کی زیارت کی پوری کوشش کرتا ہے لیکن تمام مذاہب کا ترانہ ایک ہی ہے : سونے سے زیادہ قیمتی کیا ہے؟ اپنے آپ پر قابو، اپنے آپ پر قابو اور تم اے معمولی زندگی یہاں سے نکل جاؤ،  یہاں ے نکل جاؤ۔  پھر ملیں گے۔۔۔

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ ایک مصنف اور لبنانی صحافی ہیں، وہ "الاہءر" نامی اخبار اور"الاسبوع العربی"، لبنانی کے "الصیاد" نامی میگزین اور کویت کے اخبار مںن اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>