ایک طویل ہندوستانی فلم: شیکاگو اور بیسویں دہائی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
سمیر عطاء اللہ
کو: اتوار, 1 جنوری, 2017
0

ایک طویل ہندوستانی فلم: شیکاگو اور بیسویں دہائی

        ہم نے ایک مدت کے بعد سمجھا کہ سینما ہندوستانیوں کی زندگی ہے۔ جو دنیا اس کی طرف حقیقت سے بھاگ کر جاتی ہے وہ دنیا غالبا انسانی زندگی کے معیار سے کم ہے۔ یہ کون سی انسانی زندگی ہے؟۔ ایک کروڑ چالیس لاکھ ہندوستانی روزانہ سینما گھروں میں داخل ہوتے ہیں تاکہ وہ وہاں جاکر باہر ہونے والی تمام چیزوں کو بھول جائیں کیونکہ زیادہ تر فلمیں گانوں پر مشتمل ہوتی ہیں اور خوش آئند گانے ہندوستانی کو خوش کرتے ہیں اور دکھی پر مبنی گانے اسے رلاتے ہیں پس وہ آنسو بہا کر اپنی پریشانی بھول جاتے ہیں۔

         امریکی گانے پر مبنی مسرحیات میں گانوں کا منظر سے مطابقت ضروری ہے اور ہندوستانی فلم میں یکا یک ہیرو کے دل میں یہ بات آتی ہے کہ وہ ہیروئین کے لئے بادلوں پر مشتمل گانے گائے جبکہ فلم کی کہانی سورج سے متعلق ہوتی  ہے یا مالی کی ریگستان میں محبت کی کہانی سے متعلق ہوتی ہے ۔ بالیوڈ کی سینکڑوں فلمیں منگلا سے متعلق ہیں،  ان میں سے ہر ایک میں پندرہ گانے ہیں،  ایک تہائی  گانے ہیرو کے لئے تو ایک تہائی ہیروئین کے لئے اور ایک تہائی فٹبال کھیلنے والی جماعت یا ٹریفک پولیس کے لئے ہوتے ہیں۔ فنی پیداوار میں ہندوستان کا سالانہ حصہ 5.3  ارب ڈالر ہے جبکہ اس کا مجموعی حصہ 300 ارب ڈالر ہے  اور اس کا زیادہ تر حصہ ممبئی مین ہے۔ ایشیا اور روس میں والیوڈ فلموں کے شوقین کی بڑی تعداد ہے ۔ خاندانوں کا یہ ماننا ہے کہ امریکی فلمیں اپنی مقبولیت کھو چکی ہیں  اور ایک بڑی حد تک بالیووڈ فلموں نے فقر اور عذاب کے منظر کو نہیں پیش کیا ہے تاکہ لاکھوں ہندوستانی مہاجروں کے لئے اسے پیش کیا جا سکے تاکہ وہ اپنی ترقی پر فخر کریں اور یہ سمجھیں کہ ان کے ملک میں ٹین کی چھوپڑیوں کی کوئی  جگہ نہیں ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر طرح کی ترقی کے باوجو یہ چھوپڑیاں ہندوستانی زندگی میں ہر جگہ لازم ملزوم سمجھی جاتی ہیں۔

        ہندوستانی سینما کو بالیووڈ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ ممبئ میں تیار کی جاتی ہیں جہاں کی زمینیں کافی مہنگی ہیں اور جہاں اجرت پر قتل کرنے والے کو دو سو ردپیہ دیا جاتا ہے، اس شہر میں غیر معمولی بھیڑ ہوتی ہے ۔برلن یورپ کے شہروں میں سب سے زیادہ آبادیوں والا شہر شمار کیا جاتا ہے،  کیلو میٹر مربع میں 2900 لوگ رہتے ہیں ۔ سنگاپور میں چھ لاکھ لوگ رہتے ہیں جبکہ ممبئ میں 45 ہزار لوگ رہتے ہیں اور شہر کے بیچ کے بعض علاقہ میں تو دس لاکھ لوگ رہتے ہیں یعنی یہ دنیا کی سب سے بڑی تعداد ہے جو یہاں رہتی ہے۔

        ابھی بھی لوگ وہاں گاؤں سے منتقل ہو کر جا رہے ہیں کیونکہ کوئی بھی شخص ممبئ میں بھوک سے نہیں مرتا ہے جبکہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں لوگ بھوک کی وجہ سے مرتے ہیں۔  یہ اہم نہیں ہے کہ چالیس فیصد گھر پینے کے لئے صحیح پانی کے ضرورت مند ہوتے ہیں۔ اپنا وزن کم کرنے والے لوگوں کی تعداد وزن زیادہ کرنے والے سے زیادہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہندوستان کا سب سے بڑا، مالدار اور تیز رفتار شہر ہے۔ سوکیٹو مہتا لکھتے ہیں کہ ممبئ ہندوستان کا قدیم ملک نہیں ہے بلکہ یہ شہر مغرب کی پیروی کرتا ہے۔  یہ بیسوی دہائی کے شیکاگو سے زیادہ قریب ہے  جہاں لوگوں کے مختلف گینگ اور قسم قسم کے جرائم موجود ہیں اور نوع بنوع کی ترقیاں بھی موجود ہیں۔

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ ایک مصنف اور لبنانی صحافی ہیں، وہ "الاہءر" نامی اخبار اور"الاسبوع العربی"، لبنانی کے "الصیاد" نامی میگزین اور کویت کے اخبار مںن اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>