اصلاح ومرمت کی فقدان کی وجہ سے مصر کی تاریخی یادگاریں خطرے میں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 4 جنوری, 2017
0

اصلاح ومرمت کی فقدان کی وجہ سے مصر کی تاریخی یادگاریں خطرے میں

2

بالائے مصر میں "توت عنخ امون” کی قبر کا ایک منظر

لندن: محمد شافعی

         مصر سیاحتی آمدنی کی کمی اور سخت اقتصادی بحران کی وجہ سے بے شمار تاریخی یادگاروں کی حفاظت کے سلسلہ میں مشکلات سے دوچار  ہے  اور اب وزارت آثار قدیمہ عجائب گھر، سیاحتی اور تاریخی علاقوں میں داخل ہونے کی ٹکٹ کو  آمدنی کا ایک ذریعہ قرار دینے لگی ہے۔

         مصری آثار قدیمہ کی حفاظت اور انہیں برقرار رکھنے کے لئے مسلسل  اصلاح کی کوششوں کی ضرورت ہے۔ خواہ جیزہ  کے اہرامات ہوں یا  بالائے مصر میں موجود فراعنہ کی عبادت گاہیں ہوں یا قدیم تاریخی گرجا  گھر اور مساجد ہوں تمام تاریخی آثار قدیمہ کی اصلاح کی ضرورت ہے اور یاد رہے کہ اہرامات دنیا کی سات عجوبوں میں ایک عجوبہ ہے۔

         آثار قدیمہ کے سابق وزیر "زاہی حواس” نے ایک خطرہ سے آگاہ کیا تھا  اور "الشرق الاوسط” سے گفتگو کے دوران  اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ صورت حال تباہ کن ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے کسی چیز کی اصلاح نہیں کی جا سکتی ہے۔مرکزی قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں واقع مصری میوزیم کو دیکھ لیجئے  کہ وہ خالی ہو چکا ہے۔

        حواس نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہویے سیاحتی شعبے کی صورت حال کے بہتر ہو نے کی توقع ظاہر کی تھی کہ مصر میں سیاحتی ترقی کی اہم پیش رفت قدیم مصر کے ایک مشہور فرعون "توت عنخ امون” کی سو سالہ تقریب سے پہلے ہو گی۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>