امریکی فوج میں پگڑی، داڑھی اور پردے کی اجازت - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 7 جنوری, 2017
0

امریکی فوج میں پگڑی، داڑھی اور پردے کی اجازت

3

امریکی فوج میں ایک مسلمان خاتون افسر

واشنگٹن: منیر ماؤری

        امریکی فوج نے نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نئی تعلیمات جاری کئے ہیں جن میں پگڑی باندھنے، نقاب پہننے اور داڑھی رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

        نیویارک پولیس کی طرف سے اپنے متدین افراد کے لئے مذہبی عقائد یا ذاتی اختیارات کی بنیاد پر پگڑی باندھنے، نقاب پہننے کی اجازت کے سلسلہ میں لئے گئے فیصلے کے کچھ دنوں کے بعد ہی امریکی فوج نے بھی نئے قوانین جاری کرنے کی پہل کی ہے جن میں امریکی فوج کے اہلکار کو اس بات کی اجازت دی دی گئی ہے کہ اپنے مذہب کی بنیاد پر اگر وہ خواتین ہیں تو حجاب پہنیں، اگر مرد ہیں تو  داڑھی رکھیں اور پگڑی باندھیں۔

        امریکی فوج  کا یہ فیصلہ صرف نیویارک پولیس کے فیصلہ کی تقلید میں نہیں ہے بلکہ یہ فیصلہ گزشتہ سال اس کے خلاف بہت سے قانونی مقدمے پیش کئے جانے کے بعد صادر ہوا ہے۔

        ان میں سب سے نمایاں مقدمہ سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ سکھ ایک ہندوستانی فرقہ ہے جس کے افراد ایسی پگڑی باندھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ دیکھنے میں دوسروں کے مقابلہ میں الگ لگتے ہیں اور اسی طرح وہ اپنی داڑھی بھی الگ انداز میں رکھتے ہیں۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>