ظواہری کا البغدادی پر "جھوٹ اور بہتان" کا الزام - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: ہفتہ, 7 جنوری, 2017
0

ظواہری کا البغدادی پر "جھوٹ اور بہتان” کا الزام

داعش کے لیڈر کی طرف سے مرسی کی تعریف اور عیسائیوں کی مقبولیت کے لگائے گئے الزامات کی تردید
1483713837213244700

تنظیم "القاعدہ” کے رہنما ایمن الظواہری (الشرق الاوسط)

قاہرہ: ولید عبد الرحمن

      تنظیم القاعدہ کے لیڈر ایمن الظواہری نے انٹرنیٹ پر جاری اپنے آڈیو پیغام میں "داعش” کے لیڈر ابوبکر البغدادی کی جانب سے تنظیم "القاعدہ” کے ایمیج کو خراب کرنے کی وجہ سے ان پر جھوٹ اور بہتان کا الزام عائد کیا ہے۔ ظواہری نے البغدادی کی طرف سے ان پر معزول مصری صدر محمد مرسی کی تعریف کرنے، عیسائیوں کو بطور شریک قبول کرنے اور شیعوں کو کافر نہ کہنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

      "القاعدہ” اور "داعش” کے مابین مستقل طور پر کشیدگی میں اضافہ اس وقت سے ہے جب سےیہ دنیا کی انتہائی دہشت گرد تنظیموں کے طور پر امڈ کر سامنے آئیں ہیں۔ اس سے قبل ظواہری نے البغدادی کو کہا تھا کہ "میں تمہارا امیر ہوں” اور اسے "القاعدہ” کا باغی سپاہی قرار دیتے ہوئے "نااہل جانشین” کہا تھا۔ جبکہ اس کے جواب میں "داعش” نے کہا تھا "آپ تنظیم ہیں اور ہم ریاست” اور انہیں "چور وبدمعاش” سے تعبیر کیا تھا۔

      ظواہری نے "داعش” کو اپنے پیغام زیر عنوان "ہماری قوم کے لئے ہمارا پیغام – غیر خدا کے سامنے ہرگز نہیں جھکیں گے”، میں کہا کہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم شیعہ کو کافر نہیں سمجھتے اور اس کے ساتھ ساتھ ہم نے انہیں جہاد کرنے کے لئے ایک دستاویز بھیجی اور انہیں بازاروں اورمساجد میں بم دھماکوں کو چھوڑنے کے لئے دعوت دی۔۔۔ اور انہوں نے دعوی کیا ہے کہ میں نے مرسی کو قوم کی امید اور اس کے ہیرو میں سے ایک ہیرو قرار دیا ہے، اور اس سے بڑھ کر ان کا (یعنی داعش) کا یہ دعوی ہے کہ میں نے عیسائیوں کو حکومت میں شریک ہونے کی دعوت دی ہے”۔

      دریں اثنا، ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ ظواہری کا یہ پیغام ان کی تخیلاتی قیادت کو واپس حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، جو کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ، روس اور برطانیہ کے علاوہ دیگر متاثرین کی "داعش” سے مزاحمت اور اس کے ساتھ مقابلہ کی بنا پر ہے۔ تنظیم داعش کے برعکس؛ جو کہ تنظیم القاعدہ کو "خوارج اور نئے تکفیریوں” سے تعبیر کرتی ہے، "القاعدہ” اپنے آپ کو صحیح نقطۂ نظر کی حامل تنظیم کے طور پر پیش کرتی ہے۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>