امریکہ کے شام میں اترتے ہی داعش کے لیڈر ہلاک اور گرفتار - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
به قلم:
کو: منگل, 10 جنوری, 2017
0

امریکہ کے شام میں اترتے ہی داعش کے لیڈر ہلاک اور گرفتار

اسد اعلان کر رہے ہیں کہ آستانہ میں ہر چیز پر مذاکرات ہو سکتے ہیں ۔۔۔ "سوائے ان کی معزولی کے”

w56iw56iw56uiw56u

 

بيروت: نذير رضا

       کل شام میں تنظیم داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحادیوں نے اپنی نوعیت کی پہلی کاروائی کا اعلان کیا، جبکہ پرسوں شام کے مشرقی علاقے دیر الزور کے قریب تنظیم کے لیڈروں کو ہدف بنایا گیا تھا۔ امریکی وزارت دفاع کے ترجمان نے کاروائی کے بارے میں کہا کہ یہ "انتہائی کامیاب رہی”۔

      ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس نے کاروائی کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا اور صرف اسی بیان پر اکتفا کیا کہ شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ کے اعلان کے مطابق 25 انتہا پسند ہلاک ہوگئے ہیں، "اسے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے”۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "ہلاکتیں اس سے کم ہیں”، انہوں نے مزید کہا کہ انتہا پسندوں کے لیڈروں کے خلاف آپریشن میں کاروائی صرف امریکی اسپیشل فورسز کے یونٹوں کی طرف سے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اس قسم کی کاروائی کا مقصد صرف ان کے لیڈروں کا صفایا کرنا نہیں بلکہ اس دوران مستقبل میں دیگر ہونے والے حملوں کے بارے میں معلومات جمع کرنا بھی ہے”۔۔۔

      دوسری جانب، شامی حکومت کے صدر بشار الاسد نے اس بات پر زور دیا کہ سوائے انکے اقتدار میں رہنے کے معاملہ کے سوا وہ ہر موضوع پر مذاکرات کرنے کو تیار ہیں۔ اسد نے فرانسیسی میڈیا کے ذرائع سے ملاقات کے دوران کہا؛ جیسا کہ کل شامی سرکاری اخباری ایجنسی (سانا) نے ان کا عربی میں ترجمہ کیا ہے، کہ "ہم ہر چیز پر مذاکرات کرنے کو تیار ہیں۔ آپ جب شام میں تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہیں یا شام کے مستقبل کے بارے میں تو اس میں سب شامل ہے اور ان مذاکرات کی کوئی حد نہیں ہے”۔

      ان کے بطور صدر قائم رہنے کے بارے میں بحث کے لئے انکی تیاری پر ایک سوال کے جواب میں اسد نے کہا کہ "جی ہاں، لیکن میرا عہدہ آئین کے ساتھ معلق ہے اور اس بارے میں آئین کا طریقۂ کار انتہائی واضح ہے کہ صدر چاہے تو حکومت چلائے اور چاہے تو چھوڑ دے”۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>