برطانوی شعبۂ صحت میں ایمرجنسی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 13 جنوری, 2017
0

برطانوی شعبۂ صحت میں ایمرجنسی

mcnfhfnvhfbnvhfnvhfgxfxdsdsdsdsd_1

لندن: "الشرق الاوسط”

      کل برطانیہ میں حکومت اور شعبہ صحت عامہ  (این ایچ ایس) کے ذمہ داران کے مابین کچھ تلخی ظاہر ہوئی، جو کہ حکومت کی طرف سے عائد کردہ سادگی اپنانے کے اقدامات کے تحت جنرل ہسپتالوں کے بستروں میں کمی لانے کے باعث مریضوں کی بھیڑ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔

       رائل کالج آف فزیشنز اور رائل کالج آف نرسنگ دونوں نے کہا کہ شعبۂ صحت کو موسم سرما میں اپنی تاریخ کے بد ترین بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ مریض کو ہسپتال میں داخل کرنے کے فیصلہ کے بعد اس کے انتظار کرنے کی مدت چار گھنٹوں تک پہنچ چکی ہے، جبکہ مریضوں کی تعداد 52 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ اعدادوشمار کے ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔ چار گھنٹوں کے دوران شعبۂ ایمرجنسی سے علاج کرانے والے لوگوں کی تعداد 4٫88 فیصد رہ گئی ہے جبکہ اس کی بہ نسبت مقررہ ہدف 95 فیصد ہے۔

      کل برطانوی اخبارات نے شعبۂ صحت کے ذمہ داران کے بیان کو نقل کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایک سال کے دوران ہسپتالوں کے وارڈز میں بستروں کی کمی میں 40 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسی اثناء میں ہسپتالوں کو مریضوں کی تعداد میں زیادتی کا سامنا ہے جنہیں نگہداشت کی ضرورت ہے۔ گذشتہ نومبر میں جاری کئے گئے اعداد وشمار کے مطابق صحت کا شعبہ جس کے لئے تیار رہتا ہے اور جب اس پر بھیڑ کا سب سے زیادہ دباؤ ہوتا ہے، وہ موسم سرما ہے۔

      نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے چیف ایگزیکٹو سائمن سٹیفنز نے پارلیمنٹ میں اکاؤنٹنگ کمیشن کے سامنے کہا کہ وزیراعظم ٹریسا مای کا یہ اصرار درست نہیں ہے کہ ادارہ کو اس کی ڈیمانڈ سے زیادہ پیسہ دیا جا رہا ہے۔ تو پھر پوچھیں کہ اس حالیہ منصوبہ کے مطابق مالی سال 2018 – 2019 میں صحت کے مسائل پر حقیقی اخراجات کو کیوں کم کیا جائے؟ سٹیفنز نے اس جانب اشارہ کیا کہ مای نے اپنے بیان میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ قومی شعبۂ صحت اپنی مقررہ حد ادنیٰ سے زیادہ حاصل کر رہا ہے جو سنہ 2020 تک 8 ملیار اسٹرلنگ پاونڈ ہیں۔

      گذشتہ اتوار کے روز "ریڈ کراس” نے اعلان کیا کہ نیشنل ہیلتھ سروسز کا شعبہ انسانی بحران سے دوچار ہے اور مریضوں کی منتقلی کی خاطر گاڑیوں کی فراہمی کے لئے ریڈ کراس کی مداخلت کی ضرورت پڑتی ہے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>