بحرین میں 3 شہریوں کو دہشت گردی کی بنا پر سزائے موت - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 16 جنوری, 2017
0

بحرین میں 3 شہریوں کو دہشت گردی کی بنا پر سزائے موت

ان کا تعلق ایران سے منسلک تنظیم "سرایا اشتر” سے تھا

jk5ej76ke67ke67ke67

 

منامہ: عبید السہیمی

      کل بحرین نے تین افراد کو سزائے موت دے دی گئی جو کہ ایک بم دھماکہ میں ملوث تھے جس کے نتیجے میں ایک اماراتی پولیس افسر سمیت تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ فروری 2011 میں ہونے والے انتشار کے بعد دہشت گردی کے جرم میں کسی بھی شہری کو سزائے موت دینے کا یہ پہلا واقعہ شمار کیا جا رہا ہے۔

      دہشت گردی کے جرائم کے چیف پراسیکیوٹر وجنرل وکیل احمد الحمادی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "الدیہ” علاقے میں پولیس کو نشانہ بنانے کے جرم میں 3 شہریوں کو سزائے موت دی گئی ہے، جس میں 3 پولیس اہلکار "شہید” ہو گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سزا پر عمل درآمد؛ سزا دینے والے جج، سرکاری وکیل کے نمائندے، جیل کے وارڈن، ڈاکٹر اور مبلغ کی موجودگی میں،  گولی مار کر کیا گیا۔

      کیس کے حقائق 3 مارچ 2014 سے ملتے ہیں جب فسادات پھوٹنے کے بعد سیکورٹی فورسز سے مداخلت طلب کی گئی تو اس وقت یہ تین شہری پولیس اہلکاروں کو ورغلا کر جائے وقوعہ پر لائے اور وہاں دھماکہ کر دیا جس سے تین سیکورٹی اہلکار "شہید” اور دیگر 13 زخمی ہوگئے۔

      پبلک پراسیکیوشن کی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان تینوں شہریوں کا تعلق تنظیم  "سرایا اشتر” سے تھا، جسے بحرین ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے اور اس کی قیادت ایران میں اپنا ہیڈ کوارٹر بنائے ہوئے ہے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>