ایران کے لئے شامی تیل کی بندرگاہ اور زمین - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: بدھ, 18 جنوری, 2017
0

ایران کے لئے شامی تیل کی بندرگاہ اور زمین

الجعفری کی سربراہی میں حکومتی وفد "آستانہ” میں ۔۔۔ حل کی خاطر فوجوں کی اجلاس میں شرکت ایک موقع ہے: لافروف
5W6JIUW56JUIW56JU

کل ادلب کے ایک گاؤں میں شامی بچے ان کے اسکول کے راستے میں آنے والی ایک جھیل کے پانی سے گزر رہے ہیں (غیتی)

 

بيروت: كارولين عاكوم – ماسكو: طہ عبد الواحد

       کل ایرانی دارالحکومت میں شام اور ایران کے مابین پانچ معاشی سمجھوتے دیکھنے میں آئے، ان سمجھوتوں کے مسودے کے مطابق ایران تدمر شہر میں وسیع تر زرعی اراضی اور فاسفیٹ بارودی سرنگوں کے علاوہ موبائل فون نیٹ ورک کا لائسنس بھی حاصل کرے گا۔

      شامی حکومتی وزیراعظم عماد خمیس نے کہا ہے کہ کل جن معاہدات پر دستخط کئے گئے ہیں ان میں چھٹا معاہدہ شام میں تیل کی بندرگاہوں پر سرمایہ کاری سے متعلق ہے، اس میں دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ تعاون کے ذریعے صنعت اور سرمایہ کاری کے شعبہ جات میں ایک بڑا وسیع مرکز تشکیل دیا جا رہا ہے جس کے تحت ایرانی کمپنیاں شام میں صنعتیں لگائیں گی اور عمارتوں کو تعمیر نو کریں گی۔ ایرانی اخباری ایجنسی "تسنیم” کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون کے ضمن میں  ہونے والے سمجھوتوں میں کل پانچ معاہدے شامل ہیں، جبکہ شام میں تنفیذ کے لئے بعض منصوبہ جات ایران کے حوالے بھی کر دیئے گئے۔

      دریں اثناء کل شامی حکومت نے آستانہ کانفرنس میں شرکت کے لئے اقوام متحدہ میں اس کے سفیر بشار الجعفری کی قیادت میں ایک وفد تشکیل دیا۔ وفد میں خاص طور سے الجعفری کے باقی رہنے کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کی طرح  فوجی اور قانونی شخصیات بھی شامل ہیں۔ "آستانہ” مذاکرات روس کی طرف سے جینیوا کا متبادل ہے۔

      ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف نے کہا کہ حالیہ 23 جنوری کو آستانہ مذاکرات "شام میں جنگ بندی کی توثیق اور بحران کے حل کے لئے فوجی قیادتوں کی شرکت پر اتفاق ہے۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>