استنبول کا قصاب افغانستان سے "داعش" تک - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 18 جنوری, 2017
0

استنبول کا قصاب افغانستان سے "داعش” تک

2

کل شہر کے میئر اور پولیس محکمہ کے سربراہ کے لئے منعقدہ پریس کانفرنس سے پہلے استنبول سیکورٹی ڈائریکٹریٹ عمارت کے سامنے خاص ترکی سیکورٹی فورسز کے اہلکار—  ترکی پولیس نے مشتبہ شخص کی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں اس کے چہرہ پر چوٹ کے نشانات ہیں

انقرہ: سعید عبد الرزاق

        ترکی حکومت نے کل اعلان کیا ہے کہ استنبول میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ازبک مشتبہ شخص نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسی نے نئے سال کی شام رینا کلب پر حملہ کیا تھا  اور اس حملہ کی ذمہ داری "داعش” نے لی تھی اور اس حملہ میں 39 افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوئے تھے جن 27 عرب اور غیر ملکی تھے۔

        اسنيورت گاؤں کے ایک گھر سے موصول ہوئی خبر کے بعدپرسو رات انسداد دہشت گردی فورسز کی طرف سے کی گئی سیکورٹی آپریشن کے دوران استنبول کے اورتاكوی علاقہ میں عبد القادر ماشاريبوف نامی استنبول کے قصاب کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے ہمراہ دیگر چار افرادبھی پائے گئے تھے جن میں ایک عراقی شخص اور تین افریقی لڑکیاں تھیں جبکہ ان میں ایک مصر لڑکی بھی تھی۔

        سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران موقعۂ واردات سے 197 ہزار ڈالر اور ہتھیار حاصل کیا ان میں ایک پستول، دو گولیاں اور دو  ایسے دوربین تھے جنہیں پائلٹ زمین پر معلومات حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

       چھاپہ مارے جانے کے بعد گھر میں داخل ہونے والے نامہ نگاروں کے فوٹیج سے معلوم ہوا ہے کہ باورچی خانہ میں کافی مقدار میں پینے کا پانی اور پھل پایا گیا ہے۔ اسی طرح انڈے کے کئی ٹرے، کھانا پکانے کے تیل کی بوتلیں، حفظان صحت اور میک اپ کے سامان بڑی مقدار میں پائے گئے ہیں۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>