اسرائيل کی طرف سے ام الحيران میں 15 گھر منہدم - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 19 جنوری, 2017
0

اسرائيل کی طرف سے ام الحيران میں 15 گھر منہدم

دو افراد ہلاک وزخمی اوران کے علاوہ کنیست کے عرب رکن پارلیمنٹ زخمی
vbbnmfweyrwetfysdghfeywtywt

ام الحیران گاؤں کی خواتین کل اسرائیلی بلڈوزروں کی طرف سے تباہ کردہ ایک گھر کے ملبے کے پاس بیٹھی ہیں۔۔فریم میں "کنیست” کے عرب رکن پارلیمنٹ ایمن عودہ جو اس حادثہ میں زخمی ہوئے (ا.ف.ب)

 

تل ابيب: نظير مجلی – رام الله: كفاح زبون

      کل تقریبا ایک ہزار اسرائیلی فوجیوں نے نقیب میں واقع ام الحیران گاؤں پر حملہ کیا، جس میں یہاں کے رہائشیوں کو بھگانے کی کوشش کی گئی تاکہ اس جگہ یہودی گاؤں آباد کیا جا سکے جس کا یہی نام (حیران) ہو۔

      جب وہاں کے رہائشیوں نے احتجاج کیا؛ جن میں "کامن لسٹ” کے صدر اور کنیست میں عرب رکن پارلیمنٹ ایمن عودہ بھی شامل تھے، تو قابض افواج نے انہیں لاٹھیوں اور رائفل کے دستوں سے زدوکوب کیا اور ان پر فائرنگ کی۔ جس میں پولیس نے ریاضی کے ایک استاد کو قتل کر دیا جو اپنی گاڑی لے کر بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس واقعہ پر اسرائیل نے کہا کہ وہ "داعش” کے طریقۂ کار سے متاثر ہو کر کچل کر ہلاک کرنے کی کوشش میں تھا۔

      علاوہ ازیں اسرائیلی بلڈوزروں نے مکانات کو منہدم کرنے کی کاروائی میں 15 عرب گھروں کو مسمار کر دیا، اس دوران ایک اسرائیلی پولیس اہلکار کی طرف سے چلائی گئی گولی سے”عودہ” معجزانہ طور پر بچ گئے جو کہ ان کے سر کے قریب سے گزری، اس سے انہیں ہلکا سا زخم آیا۔ جبکہ تصادم کے نتیجے میں 27 اشخاص زخمی اور گرفتار ہوئے اس کے علاوہ اس دوران ایک اسرائیلی پولیس اہلکار بھی ہلاک ہو گیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے رکن پارلیمنٹ عودہ سے رابطہ کیا اور ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ عباس نے علاقے کی عوام کی ثابت قدمی پر براہ راست حمایت کرتے ہوئے "نوجوان یعقوب ابو القیعان کی شہادت پر تعزیت کی اور زخمی ہونے والے افراد کے لئے جلد صحتیابی کی دعا کی”۔

      تنظیم آزادی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکرٹری "صائب العریقات” نے اس بات پر زور دیا کہ "اسرائیل کی طرف سے ام الحیران میں گھروں کو منہدم کرنا اس بات کی دلیل ہیں کہ "نسلی امتیاز، نسل کشی، مقامی لوگوں کو ان کی اپنی زمین سے بے دخل کرنا، ان کے وجود کو مٹانا اور یہودیوں کا ان کی جگہ پر قبضہ کرنا "ایک یہودی ریاست” کو قائم کرنے کی ناکام کوششیں ہے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>