الاسد کی حکومت کی طرف سے وادی بردی میں مزید مفاہمتیں عائد - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: جمعہ, 20 جنوری, 2017
0

الاسد کی حکومت کی طرف سے وادی بردی میں مزید مفاہمتیں عائد

اپوزیشن پارٹیاں آستانہ کے لیے اپنے وفد کو وسعت دینے کی کوشش میں… اور”نصرت” کا "احرار الشام” پر حملہ
1484850638048189200

"فتح شام” فرنٹ (سابقہ نصرت فرنٹ) کے جنگجو عناصر گورنریٹ ادلب کے مقام پر (رویٹرز)

 

بيروت: يوسف دياب – كارولين عاكوم

       شامی حکومت  نے اپوزیشن فورسز پر ایک نئی مفاہمت عائد کی ہے، جو اس بار وادی بردی کے علاقے سے متعلق ہے، جہاں کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد کل اقوام متحدہ کی زیر نگرانی فائر بندی کے سمجھوتے تک رسائی کے بعد جھڑپیں بند ہوئی ہیں۔ اس سمجھوتے میں شامل بعض شقوں؛ خاص طور پر اتفاق سے انکار کرنے والے جنگجوؤں اور ان کے علاقوں میں باقی رہنے والوں کی آباد کاری سے متعلق، ان شرائط کو اپوزیشن پارٹیوں نے شامی حکومت اور اس کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی صفوں میں ان جنگجوؤں کی شمولیت کی بنا پر پہلے مسترد کر دیا تھا۔

       کل سپہر وادی مقرن میں اقوام متحدہ کا وفد حکومتی ذمہ داران اور دمشق میں سابقہ قونصلیٹ رہنے والے جرمن ذمہ دار؛ جو کہ حالیہ وقت میں اقوام متحدہ کے افسر اور بین الاقوامی ریڈ کراس کے نمائندے ہیں، ان کے ہمراہ اتفاق کے بعد معاہدہ پر دستخط کئے۔

      شامی حکومت کی طرف سے آئندہ پیر کے روز ہونے والی آستانہ کانفرنس کے لئے اقوام متحدہ میں اس کے نمائندے بشار الجعفری کی سربراہی میں وفد کا اعلان کئے جانے کے باوجود اپوزیشن پارٹیاں ابھی تک محمد علوش کی زیر قیادت شرکت کرنے والے وفد میں شامل ناموں کو حتمی شکل دے رہی ہیں، اس معاملہ پر 90 فیصد کام مکمل ہونے کے بعد اب امید ہے کہ اس میں 25 کے قریب اشخاص ہونگے۔ دمشق اعلامیہ میں اپوزیشن سربراہ نے "الشرق الاوسط” سے کہا کہ: "وفد میں وسعت لاتے ہوئے اس میں تذبذب کی شکار جماعتوں کی ایک بڑی تعداد کو شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں”۔ علاوہ ازیں ادلب کے مغربی مضافاتی علاقے جسر الشغور میں "نصرت فرنٹ” کے جنگجوؤں نے "احرار الشام” تحریک کے ٹھکانوں پر حملہ کیا اور تحریک کے مراکز پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا اس طرح یہ واقعہ بالواسطہ آستانہ مذاکرات سے منسلک ہے۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>