تہران میں ایک عمارت کے منہدم ہونے کے بعد درجنوں فائر فائٹرز کے بارے میں خدشات - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 20 جنوری, 2017
0

تہران میں ایک عمارت کے منہدم ہونے کے بعد درجنوں فائر فائٹرز کے بارے میں خدشات

جمعہ­ 22 ربيع الثاني 1438 ہجری ­ 20 جنوری 2017ء شمارہ: (13933)
1484858079569071900

کل تہران میں بلاسکو کی عمارت کے منہدم ہونے کے بعد ایرانی فائر فائٹر اور شہری ملبہ کا جائزہ لیتے ہوئے (ا. ف. ب)

تہران – لندن: "الشرق الاوسط”

      درجنوں فائر فائٹروں کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو تہران کے وسط میں ایک 15 منزلہ عمارت کے منہدم ہونے سے پہلے اس میں لگنے والی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔

      ابھی تک تہران کی بلدیہ کے سربراہ محمد باقر قالیباف کےسواء کسی ذمہ دار نے یقین دہانی نہیں کی کہ اس میں کوئی ہلاکت ہوئی ہے یا نہیں۔ بلدیہ کے سربراہ نے سرکاری ٹیلی ویژن پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کا خیال ہے کہ عمارت کے منہدم ہونے سے پہلے تقریبا 20 سے 25 فائر فائٹر اس میں موجود تھے۔

      سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق گذشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی میں پہلی بلند ترین عمارت میں آگ لگنے پر تقریبا 200 فائر فائٹر کی مدد حاصل لی گئی تھی۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>