ترکی کو اسد کی بقا قابل قبول ہے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 21 جنوری, 2017
0

ترکی کو اسد کی بقا قابل قبول ہے

جمعہ 22­ ربیع الثانی 1438 ہجری – 20 جنوری 2017 ء شمارہ نمبر[13933]
3

ترکی کے نائب وزیر اعظم محمد شیمک

لندن: "الشرق الاوسط اونلائن”

        آج ترکی کے نائب وزیر اعظم محمد شیمک نے  کہا کہ اب انقرہ کے بس میں نہیں کہ وہ صدر بشار الاسد کی حکومت کی شرکت کے بغیر شام میں تنازعہ کو ختم کر سکے کیونکہ زمینی حقائق بہت بدل گئے ہیں۔انہوں نے شام اور عراق سے متعلق ڈیووس کے عالمی اقتصادی فورم میں کہا کہ جہاں تک اسد کی بات ہے تو اس سلسلہ میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ وہی براہ راست شامی عوام کی پریشانیوں اور ان کے آلام ومصائب کے ذمہ دار ہیں لیکن ہم پر ضروری ہے کہ ہم حقیقت پسند ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زمینی صورتحال بہت بدل چکی ہے اسی وجہ سے اب ترکی اسد کے بغیر اس مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلہ میں اصرار نہیں کر سکتا ہے کیونکہ یہ ناممکن ہے۔

        "نیویارک ٹائمز” نے چند روز قبل اپنے ویب سائٹ پر ایک رپورٹ شائع کیا تھا جس میں اس بات کا ذکر تھا کہ امریکہ روس اور ترکی کے درمیان مضبوط تعلقات ہونے کی وجہ سے شام کے مسائل حل کرنے کے سلسلہ میں حاشیہ پر ہے۔ اسی اخبار میں اس بات کا بھی ذکر تھا کہ ماسکو نے نیٹو کے رکن ترکی کے ساتھ فوجی تعلقات قائم کرنے کے لئے اس موقع کو غنیمت جانا ہے جبکہ واشنگٹن کی مکمل توجہ شام میں تنظیم داعش کی دارالحکومت "الرقہ” شہر کو بحال کرنے پر مرکوز ہے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>