ایک خفیہ بند کے جواب میں نصرہ کی طرف سے اپوزیشن جماعتوں پر حملہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 25 جنوری, 2017
0

ایک خفیہ بند کے جواب میں نصرہ کی طرف سے اپوزیشن جماعتوں پر حملہ

بدھ 27 ربيع الثانی 1438 ہجری- 25 جنوری 2017 ء شمارہ نمبر [13938]
4

کل روس، ترکی، ایران، قزاقستان کے نمائندے اور شام کے بین الاقوامی ایلچی اسٹیفن ڈی مستورا آستانہ کے کانفرنس کے اختتامی بیان کے بعد دیکھے جا سکتے ہیں

آستانة: ” الشرق الاوسط”  

        قزاقستان کی دارالحکومت آستانہ میں جاری م‍ذاکرات سے باخبر شامی ذرائع نے” الشرق الاوسط”  کو بتایا کہ آستانہ معاہدہ سے متعلق ایک پر اسرار بند نے "فتح الشام” نامی تنظیم اور شامی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ایک جنگ چھیڑ دی ہے اور اس بند میں اس بات کا ذکر ہے کہ جنگ بندی کے دوران نظام اور حزب اختلاف اپنے اثر و رسوخ کے علاقوں میں بر قرار رہیں گے اور دونوں مسلح فریقوں کو علیحدہ علیحدہ اس بات کی اجازت حاصل ہوگی کہ وہ "فتح الشام” کے اثر و رسوخ والے علاقوں کی طرف اقدام کریں اور ان کو اپنے علاقوں میں شامل کریں۔

        گورنریٹ ادلب کے معرة النعمان کے دیہی علاقوں سے "فتح الشام” نامی تنظیم کو بھگانے کے لئے مشترکہ کارروائیوں کے لئے کمرہ کی تشکیل سے پہلے انتہا پسند تنظیم نے حلب کے شمال، مغربی شمال اور مغرب میں واقع عندان، كفر حمرة، خان العسل، حريتان، كفرناها اور واورم الكبرى نامی گاؤں میں شامی فرنٹ کے دفتروں پر حملہ کرنے کے بعد حزب اختلاف کے جماعتوں پر حملہ کردیا اور مذکورہ علاقوں پر قبضہ کر لیا جبکہ حلب کے مغربی شہر راشدین میں "فتح الشام” کے حملوں سے "جيش المجاهدين” کی حمیات کے لئے امداد فراہم کیا گیا تھا۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>