ترکی کی طرف سے یونان پر آٹھ انقلابیوں کی حمایت کرنے کا الزام - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 27 جنوری, 2017
0

ترکی کی طرف سے یونان پر آٹھ انقلابیوں کی حمایت کرنے کا الزام

قبرص اور بحر ایجیئن کے سلسلہ میں دونوں ملکوں کے درمیان  کشیدگی
جمعة 29 ربيع الثانی 1438ہجری ­ 27  جنوری 2017ء شمارہ نمبر [13940[

2

انقرہ: سعيد عبد الرازق

        جولائی کے مہینہ میں ترکی میں ہوئی انقلابی کوشش کی رات یونان کی طرف فرار اختیار کرنے والے فوجیوں کو حوالہ کرنے کے مطالبہ کو قبول نہ کرنے کے سلسلہ میں یونانی محکمہ علیا نے فیصلہ صادر کیا ہے۔ اس کے جواب میں ترکی نے اپنے پڑوسی ملک یونان پر انقلابیوں کی حمایت کرنے کا الزام لگایا ہے اور وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ محکمہ علیا کا یہ فیصلہ سیاسی طور پر کیا گیا ہے اور اب یونان انقلاب کی حمایت کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل ہے۔

       یونانی محکمہ کے اس آخری فیصلہ کی وجہ سے ترکی نے اپنا ایک نقطۂ نظر قائم کیا پھر اس کے بعد شمال قبرص میں ترکی فوج کی موجوگی کی وجہ سے ایتھنز نے اپنا نقطۂ نظر قائم کیا جس کی وجہ سے کشیدگی کے معاملات میں مزید اضافہ ہوا ہے اور بحر ایجیئن کے جزیروں پر قیام گاہیں قائم کرنے کے سلسلہ میں تعیین نہ ہونے کی وجہ سے انقرہ کی بے چینی بڑھ گئی ہے۔

        فوج کو سپرد نہ کرنے کے سلسلہ میں یونانی محمۂ علیا کے فیصلہ کے اعلان کے فورا بعد ترکی نے ایک بیان میں کہا کہ فوجیوں کو سپرد نہ کرنے کے سلسلہ میں یونانی محکمہ کے فیصلہ کا کافی گہرا اثر دو طرفہ تعلقات اور انسداد دہشت گردی تعاون پر پڑے گا۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>