"فتح الشام" کا محاصرہ اور ترکی اسے دہشت گرد تصور کرتا ہے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: جمعہ, 27 جنوری, 2017
0

"فتح الشام” کا محاصرہ اور ترکی اسے دہشت گرد تصور کرتا ہے

"اتحادی” اور "کمیٹی” ماسکو ملاقات سے غائب –روس کرد "ڈیموکریٹک یونین” کے سامنے "جنیوا” کی راہ کھول رہا ہے
جمعہ­ 29 ربيع الثانی 1438 ہجری ­ 27 جنوری 2017ء شمارہ: (13940)
1485459182158249700

مشرقی الغوطہ کے عربین علاقے میں شامی حکومت کے فضائی حملے میں ہونے والی تباہی سے قطع نظر ایک شامی بچی اپنے خاندانی گھر میں کھڑی ہے (ا.ف.ب)

 

بيروت: كارولين عاكوم – يوسف دياب

      کل ترکی کی طرف سے "فتح الشام” (نصرت فرنٹ) کو دہشت گرد جماعت قرار دیئے جانے کے بعد اس پر محاصرے میں سختی کر دی گئی۔ شمالی شام میں اس کے اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔ جبکہ جینوا میں ترک – روس سمجھوتے سے کرد "ڈیموکریٹک یونین پارٹی” کے لئے مذاکرات کی راہیں کھلنے اور اکثر شامی اپوزیشن پارٹیوں کا نصرت فرنٹ کے مخالف دھڑوں میں شامل ہونے کے بعد اب فرنٹ تنہا سی ہو کر رہ گئی ہے، اسے پہلے جنیوا مذاکرات میں حصہ لینے سے محروم کر دیا گیا تھا اور پھر ترکی کے ویٹو کرنے پر”آستانہ” ملاقات سے باہر کر دیا گیا۔

      کل روس کی جانب سے مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کرنے کی روسی کوششوں کو دھچکا لگا، جب مذاکرات کی سپریم کمیٹی کے صدر ریاض حجاب، اتحادی چیئرمین انس العبد، ان کے نائب عبد الحكيم بشار اور سیاسی کمیٹی کے رکن ہادی البحرہ نے آج ماسکو کا دورہ کرنے اور روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف سمیت دیگر شامی شخصیات سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ اس سے قبل "قاہرہ”، "ماسکو”، "آستانہ” اور "حمیمیم گروپ” کے نمایاں پلیٹ فارموں پر ایسا ہو چکا ہے۔ آئندہ ماہ جینوا مذاکرات میں شرکت کے لئے اعلی سطحی مذاکراتی کمیٹی کی جگہ ایک وفد کی تشکیل کے لئے روسی کوششوں پر اپوزیشن نے خبردار کیا، کہ اس میں اکثریت شامی حکومتی صدر بشار الاسد کی حکومت کو باقی رکھنے کی حمایت کرنے والوں کی ہوگی۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>