مکہ مکرمہ کی حرمت کی پامالی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: جمعہ, 3 فروری, 2017
0

مکہ مکرمہ کی حرمت کی پامالی

مشاری ذایدی

        بعض لوگوں نے یہ بات سن کر انکار تو نہیں كيا بلکہ حیرت کا اظہار کیا کہ: کیا ایرانی میزائل مکہ مکرمہ کو نشانہ بنا سکتا ہے؟ جیسا کہ اسلامی عرب اتحاد نے اپنے بیان میں کہا اور جنرل احمد عسیری نے اس بات کی وضاحت کی کہ یہ میزائل صعدہ کی ایک مسجد سے داغا گیا ہے۔ میں اس میزائل کو حوثی میزائل کے بجائے ایرانی میزائل كا نام ركهوں گا۔

        کچھ لوگ تو مکہ کا نام سن کر غصہ ہو گئے اور کہا کہ یہ سعودی عرب کی جانب سے اسلامی دنیا کی ہمدردیاں سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ان لوگوں نے یہ کہا کہ مذکورہ میزائل کا رخ مکہ مکرمہ کی طرف نہیں بلکہ جدہ کے ہوائی اڈے کی طرف تھا!

        سعودی عرب کی انتظامیہ كے نزدیک مکہ مکرمہ کا مطلب مقدس شہر ہے جہاں مسجد حرام اور دیگر مقامات مقدسہ ہیں۔ جب مکہ  کا مفہوم وسیع معنی میں لیا جائے تو اس کا اطلاق مکہ شہر کے علاوہ جدہ، طائف اور ان کے علاوہ  دیگر شہروں پر ہوگا۔ جہاں تک جدہ کے ہوائی اڈے کی بات ہے تو وہ مکہ کا "دروازہ” ہے جو ہمیشہ سعودی عرب اور بیرون سے آنے والے معتمرین اور حجاج سے کھچا کھچ بھرا رہتا ہے۔ تو کیا حوثی اور معزول صالح کے حامیوں کے لیے اس کو نشانہ بنانا "حلال” ہے!

        حوثیوں اور ان کے انگریز اور یمنی حامیوں کی حماقت کو نظر انداز کر کے اگر دیکھا جائے تو مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانا بہت ہی خطرناک بات ہے اور وہ لوگ یہ بات جانتے ہیں۔ اسی لئے وہ  یہ چاہتے ہیں کہ اس جرم  پر مرتب ہونے والے ہر قسم کے معنوی اور منفی اثر کوزائل کر دیا جائے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ عالم اسلام نے یمن میں حوثیوں اور صالح کی کٹھ پتلیوں کے ذریعہ کی جانے والی "ایرانی” بم باری کی وسیع پیمانے پر مذمت کی ہے۔ اسی لئے ایرانی میڈیا اور عراق، لبنان، یمن اور مغرب میں اس کے ہم نوا اس موضوع سے توجہ ہٹانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔

        بہرحال مذہب کے نام پر حرمین  شریفین کی حرمت  کی پامالی پہلی بار نہیں ہوئی ہے  بلکہ اس سے قبل بھی  پرانے اور نئے خوارج، سیاسی شخصیات، حجاج بن یوسف الثقفی جیسے حکمراں اور خدائی کا دعوا کرنے والوں کی طرف سے اس کی حرمت کی پامالی ہو چکی ہے۔

        تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ جب عباسی خلیفہ مامون نے اپنے  دور حکومت میں علویوں کی طرف خلافت منتقل کرنے کی کوشش کی تو بعض طالبین (ابو طالب کی اولاد) نے ان کے خلاف بغاوت کیا اور انتقامی جذبہ میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت کو پامال کیا۔ ابو سرایا نامی ایک شخص تھا، اہل بیت کے لئے انتقام لینے کے نام پر اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے سنہ 199 ہجری میں اپنے نام کا سکہ جاری کیا اور مکہ مکرمہ کا گورنر حسین بن حسن نامی شخص کو بنایا۔ یہ شخص عرفہ کے دن مغرب سے قبل مکہ مکرمہ میں داخل ہوا اورخانہ کعبہ کے غلاف کو کھینچ کر اپنے ساتھیوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔  اس کی وجہ سے وہاں سے بہت سارے لوگوں نے فرار اختیار کیا۔ مکہ میں "دارعذاب” نامی اس کا ایک گھر بھی تھا۔ اس نے اپنے پیروکاروں کو حرم مکی کے ستونوں پر لگے ہوئے سونے کو نکالنے کے لئے متعین کر دیا۔ ان لوگوں نے زمزم کی جالیوں پر لگے لوہوں کو بھی اکھا ڑ لیی اور پھر اخیر میں ان لوگوں نے مال ودولت سے آگے بڑھ کر عزت وآبرو کو پامال کیا۔

        عراق کے شہر بصرہ کا ایک علوی گورنر ابو سرایا کا پیروکارتھا۔ اہل بصرہ کے گھروں کو  کثرت سے جلانے کی وجہ سے اسے "زيد النار”کا خطاب دیا گیا تھا۔ جہاں تک یمن کی بات ہے تو وہاں ابراہیم بن موسی بن جعفر نامی ایک علوی شخص نے بغاوت کیا جس کی وجہ سے عباسی گورنر بھاگ کھڑا ہوا اور یمن کے لوگوں کو کثرت سے قتل کرنے کی وجہ سے اسے قصاب کا خطاب دیا گیا۔

نوٹ:

تفصیلات کے لئے مؤرخ محمد الخضری بک کی کتاب "محاضرات تاريخ الامم الاسلاميہ” الدولہ الامويہ والعباسيہ .. صفحہ 526 اور­ 528 ملاحظہ فرمائیں۔

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>