"بریکسٹ" پلان میں 3 یورپی اداروں کا انخلا شامل - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 3 فروری, 2017
0

"بریکسٹ” پلان میں 3 یورپی اداروں کا انخلا شامل

برطانیہ امیگریشن قوانین میں تبدیلی کا سوچ رہا ہے اور 3 ملین باشندوں کے مستقبل پر غور

knujjhsfghsfgdga6ywtwtwtdf

 

لندن: "الشرق الاوسط”

      کل برطانوی حکومت نے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کے ایک تفصیلی لائحہ عمل کو شائع کیا، جس میں یورپی  یونین سے، متحدہ منڈی سے اور یونین کے تحت جسٹس کورٹ سے نکلنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ اس لائحہ عمل کو "وائٹ بک” کا نام دیا گیا ہے اور یہ "بریکسٹ” کے روڈ میپ کو تشکیل دے گا۔ 77 صفحات پر مشتمل یہ لائحہ عمل ان بارہ پوائنٹس کے ارد گرد تواجہ مرکوز کراتا ہے جو برطانوی وزیر اعظم تھریسا مئی نے 17 جنوری کو پیش کئے تھے۔

      ایک بار پھر دستاویز میں امیگریشن قوانین؛ جو مزدورں کے یورپی یونین میں آزادانہ آنے جانے کے اصول کے منافی ہے، اسے ترجیحی بنیادوں پر بحال کرنے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ 500 ملین صارفین پر مشتمل اتحادی منڈی تک "بہترین رسائی کے امکانات” کی حفاظت کے ساتھ ممکن ہو۔ بریکسٹ کے امور کے ذمہ دار برطانوی وزیر "ڈیوڈ ڈیویس” نے اس سلسلے میں کہا کہ مستقبل میں امیگریشن قوانین میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔

      حکومت نے ایوان نمائندگان کی طرف سے 114 ووٹوں کے مقابلے میں 498 ووٹوں کی اکثریت کے ساتھ موفقت کرنے کے چند روز بعد اپنے منصوبہ سے پردہ اٹھایا، جس میں یہ بل حکومت کو اجازت دیتا ہے کہ وہ لسبون سمجھوتے کے آرٹیکل 50 کو نافذ کرے، جو انخلا کے مذاکرات سے دو سال قبل شروع ہوئے تھے۔ اس پر مزید بات چیت آئندہ ہفتے کی جائے گی، لیکن (قدامت پسند) وزیر خارجہ بورس جانسن ابھی سے اس "تاریخی لمحہ” پر بات کر رہے ہیں۔ قدامت پسند رہنما جان ریڈووڈ؛ جو کافی عرصہ تک یورپی بلاک کی مخالفت کی وجہ سے معروف رہے، انہوں نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم واپسی کے پوائنٹ سے آگے نکل چکے ہیں، عنقریب ہم یورپی یونین کو چھوڑ دیں گے”۔

      ایوان نمائندگان آنے والے بات چیت کے سیشن کے دوران مجوزہ سینکڑوں ترامیم کی جانچ پڑتال کرے گے، کیونکہ یہ برطانیہ میں مقیم تین ملین یورپی باشندوں کے مستقبل کے بارے میں خاص طور سے دلچسپی رکھتے ہیں اور یہی نقطۂ اکثریت کی صفوں میں تنازعہ کا باعث ہے۔

جمعہ­ 7 جمادى الاول 1438ہجری­ 03 فروری 2017 ء شمارہ: (13947)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>