"لوور" میوزیم میں دھاردار ہتھیار کے ذریعہ ایک دہشت گردانہ حملہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 4 فروری, 2017
0

"لوور” میوزیم میں دھاردار ہتھیار کے ذریعہ ایک دہشت گردانہ حملہ

3

دھاردار ہتھیار کے ذریعہ ایک مصری شخص کی طرف سے کئے گئے دہشت گردانہ حملہ کے بعد پیرس کے لوور میوزیم کے صحن میں فرانس کی فوجیں

پیرس: میکائل ابو نجم

        کل پیرس میں لوور نامی میوزیم میں کئے گئے حملہ کی تحقیق وتفتیش کے  قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ جس شخص نے دھاردار ہتھیار کے ساتھ میوزیم میں داخل ہونے کی کوشش کی اور پولس نے اس پر گولی چلائی وہ مصر کا ایک باشندہ تھا اور چند دن قبل فرانس پہنچا تھا۔

        ذرائع نے مزید کہا کہ تفتیش وتحقیق کے دلائل یہ بتاتے ہیں کہ وہ مصر کا ایک باشندہ تھا اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ وہ فرانس گزشتہ جنوری کو پہنچا تھا۔  ذرائع نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ اس کا نام عبد اللہ رضا رفاعی تھا اور اس کی عمر 29  سال تھی۔

         اسی طرح صدر فرنسو ہولانڈ نے اپنی فوجیوں کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ عمل وحشیانہ ہے۔

        فرانس کی پولس نے کہا کہ پیرس میں میوزیم کے سامنے فوج پر کئے جانے والے حملہ سے ایک فوجی نے دو بیگ اور ایک سفید رنگ کا دھاردار ہتھیار اٹھائے ہوئے شخص پر گولی چلایا اور پولس نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ اس شخص نے "اللہ اکبر” کا نعرہ لگایا اور گولی چلانے سے قبل میوزیم کے ایک شاپنگ سینٹر کے قریب گشت کرنے والی فوجیوں کی ایک جماعت پر حملہ کر دیا۔ پیرس پولیس کے کمانڈر میکائل کاڈوت نے کہا کہ حملہ آور ابھی زندہ ہے لیکن اسے کاری زخم لگی ہے۔

ہفتہ 8 جمادی الاول 1438ہجری – 4 فروری 2017 شمارہ نمبر {13948}

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>