خامنہ ای کی ٹرمپ پر تنقید – اور اوباما کا کوئی شکریہ نہیں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: بدھ, 8 فروری, 2017
0

خامنہ ای کی ٹرمپ پر تنقید – اور اوباما کا کوئی شکریہ نہیں

1486492555933194200

کل تہران میں خامنہ ای ایئر فورس کی افسروں سے خطاب کرتے ہوئے (ا.ب)

 

لندن: عادل السالمی – واشنگٹن: "الشرق الاوسط”

      کل ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر تنقید اور طنز کے نشتر چبھوتے ہوئے ان کے نصیحت آمیز جواب کو مسترد کر دیا، جس میں حالیہ وقت میں ٹرمپ نے تہران کو کہا تھا کہ وہ ان کے پیش رو باراک اوباما کا تہران کے ساتھ جوہری سمجھوتہ کرنے پر شکریہ ادا کرے۔ تہران میں خامنہ ای نے ایئر فورس کے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اس نو آموز امریکی شخص کے شکر گزار ہیں جس کے بیانات اور فیصلوں نے امریکہ کا اصل چہرہ ہم پر واضح کر دیا۔ امریکی حکومت کے سیاسی، معاشی، اخلاقی اور معاشرتی نظام میں پائی جانے والی بد عنوانیوں کے بارے میں جو ہم 3 سالوں سے کہہ رہے تھے وہ اس شخص نے اپنی انتخابی مہما ور اس کے بعد واضح کر دی ہے”۔

      سابقہ امریکی حکومت کے بارے میں خامنہ ای کا نقطۂ نظر ٹرمپ جیسا ظاہر ہوا، جس میں ٹرمپ حکومت نے اپنے پیش رو اوباما کے اس بیان پر تنقید کی کہ "انکی حکومت اقرار کرتی ہے کہ "ایران پر سخت پابندیوں کا مقصد ایرانی عوام اس کی حکومت کو کمزور کرنا ہے”۔ پھر سوال کرتے ہو کہ "ہم کیوں سابقہ امریکی حکومت کا شکریہ ادا کریں۔۔۔ایران کے خلاف پابندیوں پر شکریہ ادا کریں؟”، یہ گذشتہ دنوں ٹرمپ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے جواب میں کہا گیا، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو چاہیئے کہ وہ اوباما حکومت کا شکریہ ادا کرے جس نےاسے مرنے سے بچایا اور 150 ملیار ڈالر سے اسے مزید زندگی بخشی۔

      "رویٹرز” ایجسنی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ایرانی سپریم لیڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ "وہ جان لیں اب یہاں نئے صدر ہیں۔۔۔وہ جیسے مناسب سمجھیں گے ویسے اقدامات کریں گے”۔

بدھ 12 جمادى الاول 1438 ہجری ­ 08 فروری 2017ء  شمارہ: (13952)
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>