داعش رقہ میں سڑکوں پر جنگ کے لئے مستعد - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 11 فروری, 2017
0

داعش رقہ میں سڑکوں پر جنگ کے لئے مستعد

1

کل الباب شہر میں چھڑپوں کے درمیان ٹینک کے ذریعہ حملہ کئے جانے کا منظر

بيروت: بولا اسطيح

        تنظیم داعش شام کے رقہ نامی شہر میں آئندہ ہونے والی جنگ کی تیاری میں متحرک ہے اور علاقائی سرگرم کارکنوں نے اس جنگ کو شڑکوں کی جنگ کا نام دیا ہے جبکہ اس سے قبل نہر فرات پر شہر کے پلوں کو اڑا کر دونوں کنارے  کے تعلقات کو ختم کر دینے کا بین الاقوامی معاہدہ ہوا ہے۔ شام کے ڈیموکریٹک فورسز کے میلیشیاؤں نے بھی اس کی طرف پیش رفت کیا ہے اور یاد رہے کہ ان میلیشیاؤں میں زیادہ تر کردی ہیں۔

        ریاستہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے ترجمان جان ڈورائن نے جمعرات کی رات اعلان کیا ہے کہ شام کی ڈیموکریٹک فورسز نے گزشتہ سال 5 نومبر کو داعش کے خلاف فرات غضب نامی حملہ کے آغاز سے لے کر اب تک رقہ کے 410.3  کیلو میٹر علاقہ پر قبضہ کر لیا ہے۔

        موسکو سیاسی اور میدانی طور پر شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مصالحت کرنے کی کوشش میں منہمک ہے۔ میدانی طور پر روس نے پرسو انقرہ کی طرف سے حمایت شدہ اپوزیشن فورسز اور نظام اور اس کے ہمنوا فورسز کے درمیاں جھڑپوں کے بعد الباب شہر میں جنگ نہ ہونے کی کوشش کی ہے۔ ترکیا نے اپنی افواج کو غلط خبر دینے کے سلسلہ میں کریملن کے اعلان کی تردید کی ہے جس خبر کی وجہ سے شہر پر روسی جنگی جہازوں کے ذریعہ کئے جانے والے حملہ میں چند فوجی ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

ہفتہ 15 جمادی الاول 1438ہجری – 11 فروری 2017 شمارہ نمبر {13955}

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>