الرقہ کی آزادی اور محفوظ زون کے قیام تک باقی رہیں گے: اردگان - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: پیر, 13 فروری, 2017
0

الرقہ کی آزادی اور محفوظ زون کے قیام تک باقی رہیں گے: اردگان

"جنیوا وفد” کے بارے میں شامی حزب اختلاف کے اندر تقسیم
e5t6jki57ke7e67ke67k

پرسوں "آزاد شامی فوج” کے عناصر حلب کے مضافات میں "داعش” کے گڑھ الباب شہر کی جانب ترک حمایت یافتہ "فرات کی ڈھال” نامی کاروائی کے ضمن میں پیش قدمی کرتے ہوئے

 

انقرہ: سعيد عبد الرازق -­ بيروت: نذير رضا

      کل صبح ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے خلیجی دورہ کے آغاز میں انقرہ سے مانامہ روانگی سے قبل ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "ڈھال فرات” کی فورسز الباب شہر کے مرکز تک پہنچ چکی ہیں۔

      اردگان نے اس بات پر زور دیا کہ الباب کی آزادی کے بعد اب فورسز مشرقی جانب "منبج اور الرقہ” منتقل ہوں گی۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اس کاروائی کا مقصد دہشت گرد تنظیموں سے خالی شمالی شام میں 5 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے پر مشتمل محفوظ زون کا قیام ہے۔ اس محفوظ زون کی بدولت "ہمارے خیموں میں مقیم لوگ اپنے ملک واپس لوٹیں گے اور ایسا کرنے کے لئے ہم وہاں نئے شہروں کے قیام کی پوری کوشش کریں گے۔”

      سیاسی اعتبار سے، آئندہ ہفتے ہونے والے جنیوا مذاکرات میں شرکت کے لئے شامی حزب اختلاف تیاری کر رہے ہیں۔ جبکہ ان کے بعض اداروں می صورت حال نازک چل رہی ہے، جیسے مذاکرات کے سپریم کمیشن میں شامل حزب اختلاف کے ادارے "قومی رابطہ کمیٹی”۔ یہ کمیٹی مذاکرات کے عمل میں شرکت کے حامیوں اور اس کے مخالفین کے درمیان تقسیم ہو کر رہ گئی ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ "مذاکراتی عمل جعلی” ہے۔

      یہ تقسیم مخالف سیاسی اداروں کے بعد فوجی دھڑوں تک پھیل چکی ہے۔ جیسا کہ "اسلامی شام کی تحریک آزادی” اور "جیش اسلام” دونوں کاروائیوں میں شریک فوجی دھڑوں سے غائب ہیں۔

پیر 17 جمادى الاول 1438 ہجری­ 13 فروری 2017ء  شمارہ: (13957)
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>