موصل کی شکست کے بعد داعش کے لیڈر شام کی طرف فرار - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 16 فروری, 2017
0

موصل کی شکست کے بعد داعش کے لیڈر شام کی طرف فرار

3

کل بغداد کے الصدر شہر میں عراقی عوام بم دھماکہ کے موقعۂ واردات کا معائنہ کرتی ہوئی

اربيل: دلشاد عبد الله

        کل ایک کردی ذمہ دار نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ "داعش” "تلعفر "اور "تعاج” کے راستوں سے اپنے دسیوں رہنماؤں، ذمہ داروں اور اپنے اہل خانہ کو شام کی طرف روانہ کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جبکہ انہوں نے اس سے قبل حملہ میں "الحشد الشعبی” کے میلیشیاؤں کی طرف سے تلعفر  کی گھیرا بندی کو توڑ دیا ہے۔

        کردستان قومی اتحاد نامی تنظیم کی میڈیاء کے ایک ذمہ دار غیاس سورجی نے "الشرق الاوسط” کو اطلاع دی ہے کہ داعش کے مسلح افراد نے دو دن قبل ٹینکوں اور بکتر بند گاریوں کے ذریعہ تلعفر کے مغرب میں "الحشد الشعبی” کے فرنٹ پر حملہ کر کے چھ گھنٹوں سے زائد مدت تک جنگ کرنے  کے بعد ان کی طرف سے کی گئی تلعفر کی گھیرا بندی کو توڑ دیا ہے اور پھر اس کے بعد تلعفر سے بعاج کی طرف جانے کے راستہ کو کھول دیا۔

       اتحاد نے مزید کہا کہ موصل سے فرار ہوکر تلعفر کی طرف آنے والے داعش کے اکثر رہنماء اور ذمہ دار اور ان کے اہل خانہ دسیوں گاڑیوں کے ذریعہ اس راستہ سے بعاج کی طرف پھر وہاں سے شام کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

جمعرات 20 جمادی الاول 1438ہجری – 16 فروری 2017 ء شمارہ نمبر {13960}

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>