الباب اور رقہ میں ترکی وروسی تعاون کے آثار - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 18 فروری, 2017
0

الباب اور رقہ میں ترکی وروسی تعاون کے آثار

1

کل انکریلک میں ترکی اور امریکہ کے چیف صدرم

بيروت: بولا اسطيح ونذير رضا

        کل شہر الباب اور رقہ میں "درع الفرات” کی فورسز اور شامی حکومت کی طرف سے کی جانے والی مہم کے سلسلہ میں ترکی وروسی تعاون کے آثار ظاہر ہوئے ہیں اور اس تعاون کا مقصد ایک دوسروں کو آپس میں دست وگریباں ہونے سے باز رکھنا ہے۔ اسی طرح اس میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ دونوں طرفین میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے علاقوں کی طرف اقدام نہیں کرے گا اور نہ ہی وہ اپنے دائرے سے تجاوز کرے گا۔

        باوجودیکہ شامی حکومت نے الباب شہر کے 47  علاقوں کی طرف پیش قدمی کی ہے لیکن "درع الفرات” کی فورسز کے ساتھ دست وگریباں نہ ہونے کا پاس ولحاظ رکھا ہے۔ شہر کے جنوب میں 5.1 کیلو میٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد شامی حکومت کی فورسز رک گئیں اور الباب ورقہ کے جنوبی علاقہ کے مشرق میں واقع مشرقی ریف حلب میں اپنی فوجی کاروائی کے ایک مہینہ کے بعد  وسعت کو جاری رکھا لیکن ان لوگوں نے وہاں سےتجاوز کر کے شمال کے علاقوں کی طرف اقدام نہیں کیا۔

        دوسری طرف ترکی کی مدد سے "درع الفرات” کی طرف سے "نیشل آرمی” کی تشکیل دئے جانے کے کام میں شریک "آزاد فوج” کے ذرائع نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ عنقریب اس آرمی کے سلسلہ میں اعلان کریں گے جبکہ صدر رجب طیب اردوغان نے گزشتہ ہفتہ اس بات کا اعلان کیا تھا کہ آئندہ مرحلہ میں شامی آزاد فورسز ہی کو شام کی نیشنل آرمی قرار دینا چاہئے۔

ہفتہ 22 جمادی الاول 1438ہجری – 18 فروری 2017ء شمارہ نمبر {13962}

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>