شامی حکومت اور مخالف جماعتیں جنیوا میں آمنے سامنے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: جمعہ, 24 فروری, 2017
0

شامی حکومت اور مخالف جماعتیں جنیوا میں آمنے سامنے

1487874053237806700

کل جنیوا مذاکرات کے افتتاح کے موقع پر شامی حکومت اور اپوزیشن کے وفدوں کے درمیان میں ڈی مستورا (ا۔ف۔ب)

جنیوا: ميشال ابو نجم – انقرہ: سعيد عبد الرازق – بيروت: نذير رضا – واشنگٹن: ہبہ القدسی

      شامی مذاکرات کے چوتھے راؤنڈ کی افتتاحیہ تقریب کے بعد؛ جس کے دوران کل جنیوا میں حکومت اور مخالف جماعتوں کے وفود آمنے سامنے بیٹھے، شام کے لئے اقوام متحدہ کے ایلچی سٹیفن ڈی مستورا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ براہ راست مذاکرات کی خاطر وہ دونوں وفود کے ایک ساتھ جمع ہونے کے منتظر ہیں، "لیکن اس پر زیادہ کام کی ضرورت ہے”۔ اقوام متحدہ کے ایلچی کل مذاکرات کی ابتدا سے قبل ہی ناکام ہونے سے اسے بچانے میں کامیاب رہے، جب مخالف جماعتوں کے لوگ اس افتتاحی اجلاس میں ایک وفد کی شکل میں بیٹھے پر قائل ہوئے۔ جبکہ اس افتتاحیہ اجلاس کا انعقاد تین کی بجائے شام سات بجے ہوا۔ سلامتی کونسل کے اراکین اور "شام کی حمایت کرنے والے گروپ” کے نمائندگان کی شرکت کے ساتھ یہ افتتاحی سیشن ڈی مستورا کے خطاب تک محدود رہا۔

      افتتاحیہ اجلاس کے آغاز سے قبل صورت حال پر اسرار رہی۔ مخالف جماعتوں کے نمائندوں کے تین وفود کے لئے خصوصی ترتیب کے سبب آخری منٹوں تک مسلسل مشاورت اور خدشات جاری رہے، یہاں تک کہ اجلاس کا پردہ اٹھایا گیا۔ یہ دو طرفہ ملاقات نہیں تھی، جیسا کہ ڈی مستورا نے حالیہ انتظامات کو سمجھنے کے لئے شامی حکومتی وفد کے ساتھ اور پھر مخالف جماعتوں کے وفود کے ساتھ (جن میں سپریم کمیشن کا وفد اور قاہرہ وماسکو کے پلیٹ فارم کے وفود شامل ہیں) منعقد کئے۔ اس دوران باضابطہ انتظامات کی خاطر پورے دن کی کاروائی کے ذریعے سب کو اتفاق کی جانب لانے کی کوشش کے بعد سپریم کمیشن کے وفد نے قاہرہ اور ماسکو کے پلیٹ فارم سے معاملات کرنے سے انکار کر دیا اور ان میں اپنے نمائندگان کو شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ پروگرام کے مطابق امن مذاکرات کے طریقۂ کار کی وضاحت کی خاطر، منصوبہ بندی سے نکلنے کی خاطر آج دو طرفہ اجلاس منعقد کئے جائیں گے، جو کہ شامی حکومت اور مخالف جماعتوں کے مابین براہ راست مذاکرات کی واپسی میں تاخیر کی جانب اشارہ ہے۔

جمعہ 28 جمادى الاول 1438 یجری ­ 24 فروری 2017ء  شمارہ: (13968)
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>