نتنیاہو کی طرف سے "خود مختاری" کی پیشکش کے بعد فلسطینی غصہ میں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 24 فروری, 2017
0

نتنیاہو کی طرف سے "خود مختاری” کی پیشکش کے بعد فلسطینی غصہ میں

اسرائیلی وزیر اعظم کا آسٹریلیا میں مذمتی مظاہروں کے ساتھ استقبال

pljyufsehfywfyftawdyasdghasdtf

 

رام الله: كفاح زبون – تل ابيب: "الشرق الاوسط”

      فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو کی جانب سے کل آسٹریلیا میں فلسطینیوں کو خود مختاری دینے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

      فلسطین کی تحریک آزادی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن واصل ابو یوسف نے "الشرق الاوسط” سے کہا کہ "نہ تو خود مختاری اور نہ ہی کینٹن (ادارتی تقسیم) ہوگی۔ اب وقت گزر چکا ہے، فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت پوری قومی اراضی کے ساتھ القدس ہو، اس کے بغیر قیام امن ہرگز نہیں ہوگا”۔ ابو یوسف نے یہ بیان نتنیاہو کی جانب سے کل سیڈنی میں اپنے آسٹریلوی ہم منصب میلکم ٹرنبول کے ہمراہ مشرکہ پریس کانفرنس کے دوران دیئے گئے بیان کے جواب میں دیا، جس میں نتنیاہو نے کہا کہ "بہتر ہے کہ نعروں کی بجائے اصل مسئلہ سے نمٹا جائے۔ مستقبل کی فلسطینی ریاست کی نوعیت کیا ہوگی؟ کیا یہ ریاست ایسے حکمرانوں کے پاس آئے گی جو فوری طور پر اس کی اراضی پر انتہا پسند اسلام نافذ کرے گی؟”۔ نتنیاہو نے اس مسٔلہ کے حل کے لئے شرائط کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو چاہیئے کہ اب وہ یہودی ریاست کو تسلیم کر لیں۔ یہ بات دانشمندانہ نہیں کہ کوئی یہ کہے کہ فلسطینیوں پر الگ ملک کا حصول لازم ہے اور اسی وقت اسرائیل کو تباہ کرنے کا مطالبہ کرے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں نہیں چاہتا کہ ایک کروڑ فلسطینیوں کو اسرائیل میں بطور اسرائیلی شہری شامل کر لیا جائے اور نہ ہی یہ چاہتا ہوں کے وہ اسرائیل کے زیر تسلط آجائیں”۔ انہوں نے تنازعے کے مستقبل کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا "میں چاہتا ہوں کہ (فلسطینی) خود مختاری کے ساتھ آزادی سے لطف اٹھائیں لیکن ہمارے لئے خطرہ بننے کے لئے نہیں”۔۔۔

      کل سیڈنی میں سینکڑوں آسٹریلین نے اسرائیلی وزیر اعظم کی پالیسی پر مظاہرہ کیا۔ جبکہ آسٹریلوی حکومت نے نہایت گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور ان کے دورہ جات کی تمام جگہوں پر صدر ٹرنبول ان کے ہمراہ رہے۔

جمعہ 28 جمادى الاول 1438 یجری ­ 24 فروری 2017ء  شمارہ: (13968)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>