ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندیوں میں کمی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
به قلم:
کو: منگل, 7 مارچ, 2017
0

ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندیوں میں کمی

عراقی شہری اور گرین کارڈ ہولڈر مستثنی
1488828763449789300

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اور وزیر عدل جیف سیشنز کل واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے قبل (ا۔ف۔ب)

 

واشنگٹن: ہبہ القدسی

      کل وائٹ ہاؤس نے سفری پابندی سے متعلق ایک ترمیم شدہ فیصلے کا انکشاف کیا، جس میں مسلم اکثریتی 6 ممالک کے شہریوں کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ لیکن انٹری ویزا اور رہائشی اجازت نامے (گرین کارڈ) ہولڈرز کو چھوٹ دے دی گئی ہے۔

      صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے "ترمیم شدہ” ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے ہیں۔ اس کے مطابق سوڈان، شام، ایران، لیبیا، صومالیہ اور یمن کے مسافرین پر 90 روزہ پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ "داعش” کے خلاف عراقی کردار کو دیکھتے ہوئے امریکی وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے دباؤ کے تحت نئے فیصلے میں عراق کو پابندی عائد کئے گئے 7 ممالک کی لسٹ سے مستثنی قرار دے دیا گیا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے شہریوں پر پابندی عائد کئے گئے ممالک کی فہرست سے عراق کو نکالے جانے پر عراق نے اس فیصلے  کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے صحیح سمت میں "اہم قدم” قرار دیا ہے۔

      اس نئے فیصلے پر عمل درآمد ماہ راوں کی 16 تاریخ سے شروع ہوگا۔ اس فیصلے میں معینہ اداروں کو دس روزہ نوٹس دیا گیا ہے تاکہ وہ اس پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کو سمجھیں۔ جیسا کہ گذشتہ فیصلے پر بین الاقوامی ایئر پورٹس پر دیکھنے میں آیا اس افراتفری، انتشار اور قانونی تنازعات سے بچتے ہوئے اسے لاگو کیا جائے۔

      ٹرمپ کی حکومت میں خارجہ امور، انصاف اور قومی سلامتی کے وزراء نے اس نئے حکم نامے کا خیر مقدم کیا۔ جبکہ ڈیمو کریٹک سینیٹ کے اقلیتی رہنما چک شومر کا کہنا ہے کہ نئے ایگزیکٹو آرڈر کو بھی اسی طرح کے چیلنجوں کا سامنا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ "اگرچہ اس آرڈر میں کمی کر دی گئی ہے لیکن اس کے باوجود یہ (ایگزیکٹو آرڈر) پابندی ہے جو ہمیں کم محفوظ بناتا ہے”۔

منگل 8 جمادى الثانی 1438 ہجری ­ 07 مارچ 2017ء  شمارہ: (13979)
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>