شام کے مسئلہ میں ایران کو لگام لگانے کے لئے اسرائیلی اور امریکی دھمکی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 9 مارچ, 2017
0

شام کے مسئلہ میں ایران کو لگام لگانے کے لئے اسرائیلی اور امریکی دھمکی

3

شام کے مرکزی حصہ میں واقع حمص شہر کے اندرون میں محاصرہ شدہ گاؤں جہاں جنگ بندی کے کئی منصوبے ناکام ہو چکے ہیں

تل ابیب: نظیر مجلی

        اسرائیلی ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو جمعرات کے دن ماسکو کے سفر کے دوران روس کے صدر کو ایک مشترکہ اسرائیلی ۔ امریکی پیغام پیش کریں گے۔ اس کا مضمون یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ دونوں ملکوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ شام میں ایران کے وجود پر لگام لگایا جائے۔ نتن یاہو کے ترجمان نے باخبر کیا ہے کہ گزشتہ پیر کے دن فون کے ذریعہ اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو اور امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیاں ہونے والی آخری گفتگو کا مقصد یہ تھا کہ ماسکو کی طرف نتن یاہو کے دورے کی شام تمام نقطہائے نظر کی ترتیب دی جائے۔

        اسرائیلی فوج میں فوجی تاریخ کے حامل وزارتی ذمہ دار نے کہا کہ پیغام میں اس بات کی تاکید ہے کہ اسرائیل اور ریاسہائے متحدہ امریکہ ایران کے بیلسٹک تجربوں کو شمار کر رہا ہے جو ان دونوں کے لئے چیلنج ہے اور شام میں تہران کے زندہ اور حساس مفادات عنقریب ان دونوں کے نشانہ بن سکتے ہیں اور جب سوال کیا گیا کہ کیا اسرائیل شام میں ایرانی فورسز ر پر بم باری کر سکتا ہے تو اس کا جواب یوں دیا گیا کہ شام میں متحرک ہونے والی ہر ایرانی چیز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

جمعرات 10 جمادی الثانی 1438ہجری – 9 مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13981}

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>