مصری پارلیمنٹ میں فتووں کی بے ضابطگی کے خلاف ایک حرکت - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 11 مارچ, 2017
0

مصری پارلیمنٹ میں فتووں کی بے ضابطگی کے خلاف ایک حرکت

4

قاہرہ کے جامع ازہر میں ایک انڈونیشی طالبہ دیگر خواتین کے ساتھ نماز ادا کرتی ہوئی

قاہرہ: ولید عبد الرحمن

        مصری پارلیمنٹ فتووں کی بے ضابطگی اور ٹی وی وغیرہ پر آنے والے علماء کے خلاف چند قوانین بنا رہی ہے جس میں ایک قانون یہ ہے کہ فتووں کے سلسلہ میں مصادر کی وضاحت کی جائے اور اس کے علاوہ ایک قانون یہ بھی ہے کہ جو شخص بھی اجازت کے بغیر ٹی وی چینل پر حاضر ہوگا اسے قید کیا جائے گا اور اس پر 100 ہزار مصری پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

        پارلیمنٹ میں دینی کمیٹی کے ارکان نے قانون کا تین مسودہ پیش کیا ہے جس میں ایک مصری دار الافتاء کے اندر کام کو منظم کرنے کا قانون ہے، دوسرا عام فتووں کو منظم کرنے کا قانون ہے اور تیسرا بغیر اجازت ٹی وی چینلوں پر نہ آنے کا قانون ہے۔

        پارلیمنٹ میں یہ اقدام اس وقت لیا گیا ہے جب مصر میں بے ضابطہ فتووں اور ٹی وی چینلوں اور میڈیاء میں مفتیوں کی کثرت ہو گئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی طرف سے مصری دار الافتاء پر ہاتھ ڈالنے کی وجہ سے بہت سارے خدشات کا اندیشہ ہے لیکن پارلیمنٹ ذرائع نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ ان قوانین میں عام طور پر دینی اداروں کی خدمت کے ساتھ عام فائدہ بھی ہے۔

ہفتہ  12 جمادی الثانی 1438ہجری – 11 مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13983}

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>