موصل میں "داعش" کی وجہ سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 24 مارچ, 2017
0

موصل میں "داعش” کی وجہ سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ

1490291693082928400

عراقی افواج کے افراد موصل سے فرار ہونے والوں کے سامنے کھڑے ہیں کل ان شہریوں کو اس کئے جمع کیا گیا تاکہ ان میں سے "داعش” کے افراد کو الگ کیا جا سکے (ا.ف.ب)

 

موصل: دلشاد عبد الله

      تنظیم "داعش” شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے، جس نے گذشتہ دو دنوں کے دوران مغربی موصل میں کنٹرول کردہ علاقوں میں ان کا محاصرہ کر کے ان کے گھروں پر اپنے پرچم کو بلند کروا رہی ہے۔ تاکہ بین الاقوامی اتحادیوں اورعراقی فوج کو دھوکہ دے کر سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت کا سامان کیا جا سکے۔

      موصل شہر کے مرکز کے سربراہ حسین علی حاجم نے "الشرق الاوسط” سے کہا کہ "داعش نے نیو موصل اور الرسالہ محلے کے رہائشی افراد کو گلیوں سے حراست میں لے کر ان گھروں کے اندر لے گئی کہ جن کی چھتوں سے طیارہ شکن ہتھیار داغے گئے تو جوابا ان جہازوں نے میزائلوں سے انہیں نشانہ بنایا اور ان عمارتوں میں موجود تمام افراد ہلاک ہوگئے”۔ کل ان دونوں محلوں میں شہری دفاع اور نوجوان رضا کاروں کی ٹیموں نے بمباری میں نشانہ بننے والی عمارتوں کے ملبے سے سینکڑوں شہریوں کی لاشوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ ان دونوں محلوں پر حملے کے باعث ہلاک شدگان کی لاشیں نکالنے میں شریک ایک مقامی تنظیم کی خاتون سربراہ نے "الشرق الاوسط” کو انکشاف کیا کہ نیو موصل پر حملے کے باعث 132 اور الرسالہ پر حملے میں 305 شہری جان بحق ہوئے ہیں۔

جمعہ 25 جمادى الثانی 1438 ہجری­ 24 مارچ 2017ء   شمارہ: (13996)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>