اردن عرب سربراہی اجلاس میں "شرکاء کی بھرپور شرکت" کی توقع کر رہا ہے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 27 مارچ, 2017
0

اردن عرب سربراہی اجلاس میں "شرکاء کی بھرپور شرکت” کی توقع کر رہا ہے

عرب وزرائے خارجہ اسرائیل کی سرگرمیوں اور ایران کی مداخلت کی مذمت کر رہے ہیں
1490548760020196300

اردن کے علاقے بحر المیت میں عرب کی اقتصادی و سماجی کونسل میں وزراء کے اجلاس کا منظر (غیتی)

 

 بحر الميت (اردن): ثائر عباس – سوسن ابو حسين – محمد الدعمہ

      آج عرب وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی کاروائی کا آغاز ہوا، تاکہ کل اردن میں منعقدہ عرب سربراہی اجلاس میں پیش کی جانے والی قرارداد کے مسودے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ اس سربراہی اجلاس میں "تمام تر” عربوں کی شرکت کے بارے میں اردن پر امید ہے، تاکہ اس سربراہی اجلاس کو تقویت ملے۔ "الشرق الاوسط” کو معلوم ہوا ہے کہ وہ مسودۂ بیان جس پر عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران مندوبین نے بات کی؛ یہ اس بیان پر اتفاق اور ابتدائیہ تھا جو بدھ کے روز عرب سربراہی اجلاس میں اٹھایا جائے گا، اس بیان میں اسرائیلی سرگرمیوں اور القدس کو اپنے ساتھ شامل کر کے یہاں سفارت خانوں کی منتقلی پر واضح طور پر مذمت کی۔ علاوہ ازیں عرب ممالک میں ایرانی مداخلت کی بھی مذمت کی گئی۔۔۔

      اردن میں عرب سربراہی اجلاس کی انتظامیہ کی ترجمان خاتون سفیر ریما علاء الدین نے یقین دہانی کی کہ اردن عرب سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لئے مکمل تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم امید کرتے ہیں کہ اس میں بھر پور شرکت ہوگی کیونکہ حالیہ وقت میں عرب مشترکہ عمل کے احیاء کی ضرورت ہے”۔

پیر 28 جمادى الثانی 1438 ہجری­ 27 مارچ 2017ء  شمارہ: (13999)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>