"موصل میں قتل عام" کے بارے میں متضاد بیانات - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق الاوسط
کو: پیر, 27 مارچ, 2017
0

"موصل میں قتل عام” کے بارے میں متضاد بیانات

1490546849999937700

کل ایک عراقی نیو موصل میں گھروں کے ملبے کے درمیان بیٹھا ہے جنہیں فضائی حملے میں تباہ کر دیا گیا تھا اور اس دوران درجنوں شہری ہلاک ہوگئے (ا.ف.ب)

 

موصل: دلشاد عبد الله – بغداد: "الشرق الاوسط”

      کل "موصل میں قتل عام” کے نتائج کے بارے میں متضاد باتیں گردش کرتی رہی ہیں۔ نہ صرف شہر کے مغربی جانب سے دس روز قبل عمارت کو نشانہ بنانے کے بارے میں جس میں درجنوں شہری ہلاک ہو گئے تھے، بلکہ ہلاک شدگان کی تعداد کے بارے میں بھی اختلاف پایا جا رہا ہے۔ کل عراقی فوج نے اعلان کیا ہے کہ نیو موصل میں ایک عمارت کے ملبے سے 61 لاشوں کو نکالا جا چکا ہے۔ فوج نے کہا کہ تنظیم داعش نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں اتحادی طیاروں کی جانب سے انہیں نشانہ بنائے جانے کی نفی کی ہے۔ جبکہ اتحادیوں نے پرسوں تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے 17 مارچ کو داعش کو نشانہ بنایا ہے۔

      ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں فوجی بیان میں اختلاف پایا جاتا ہے، کیونکہ عینی شاہدین وعلاقائی ذمے داران کی رپورٹ کے مطابق عمارت کے ملبے کے نیچے سے ابھی تک نکالی گئی لاشوں کی تعداد 200 تک پہنچ چکی ہے۔

 

پیر 28 جمادى الثانی 1438 ہجری­ 27 مارچ 2017ء  شمارہ: (13999)
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>