قتل عام سے بچنے کے لئے موصل میں بھاری ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق الاوسط
کو: جمعہ, 31 مارچ, 2017
0

قتل عام سے بچنے کے لئے موصل میں بھاری ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی

گوتيرس کا شہریوں کو "ترجیحی”بنیاد پر تحفظ فراہم کرنا کی یقین دہانی
1490895779954775100

کل دارالحکومت بغداد کے جنوب میں ایک تفتیشی چوکی پر ٹرک دھماکے کی جگہ (روٹرز)

 

بغداد: "الشرق الاوسط”

     کل عراقی فوجی ذرائع نے بیان کیا ہے کہ مشترکہ آپریشنز کی قیادت کو مسلح افواج کی جنرل کمانڈ کی طرف سے احکامات موصول ہوئے ہیں کہ موصل شہر کے بقیہ علاقوں کو آزاد کرانے کی کاروائی کے دوران بھاری ہتھیاروں کا استعمال نہ کیا جائے۔ جرمن اخباری ایجنسی کے مطابق مشترکہ آپریشنز کمانڈ کے بریگیڈیئر جنرل محمد الجبوری نے کہا ہے کہ "آپریشنز کی قیادت نے وفاقی پولیس فورس اور انسداد دہشت گردی کے ادارے کو مطلع کیا ہے کہ (داعش کے) ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لئےبھاری ہتھیار اور اسمارٹ توپوں کا استعمال نہ کریں تاکہ مغربی موصل کے علاقوں میں شہریوں کو مزید ہلاکتوں سے بچایا جا سکے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بڑھنے اور "داعش” کے عناصر کی جانب سے ان کا استحصال کرتے ہوئے ان کو بطور انسانی ڈھال کے استعمال کرنے کی وجہ سے ہے۔

جمعہ 3 رجب 1438 ہجری­ 31 مارچ 2017ء   شمارہ:  (14003)
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>