روس کی جانب سے اعتدال پسند جماعتوں کو ہدف بنائے جانے پر "آستانہ مذاکرات" خطرے میں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: پیر, 3 اپریل, 2017
0

روس کی جانب سے اعتدال پسند جماعتوں کو ہدف بنائے جانے پر "آستانہ مذاکرات” خطرے میں

بھوک الرقہ کے دروازے پر… فوعہ اور کفری معاہدے کے بارے میں تنازعہ
1491173917290185600

ایک چھوٹی بچی گھر کے ملبے سے اپنے کام کی چیزیں جمع کر رہی ہے جسے کل حلب میں ہونے والے فضائی حملے میں تباہ کر دیا گیا تھا (غیتی)

 

بيروت: كارولين عاكوم

      کل روس کے طیاروں نے شام کے شمال مغرب میں اعتدال پسند جماعتوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر بمباری کی، جس سے مخالف جنگجو جماعتوں کا ایک شخص ہلاک اور کئی ایک زخمی ہوگئے۔ ان حملوں میں گورنریٹ ادلب کے گاؤں بابسقا کو نشانہ بنایا گیا، جو کہ کئی جماعتوں کی پناہ گاہ بن چکا ہے۔ انہی میں وہ مخالف جماعتیں بھی شامل ہیں جن کے نمائندگان ماسکو کے زیر نگرانی آستانہ مذاکرات میں شرکت کر چکے ہیں۔ مخالف جماعتوں کے مطابق یہ حملے مذاکرات کے چوتھے راؤنڈ پر منفی اثرات مرتب کریں گے۔

     دریں اثناء، ایرانیوں اور "حزب اللہ” لبنانی کے ساتھ کئے گئے اس معاہدے کے پرخچے اڑا دیئے گئے ہیں جس کی تنفیذ آج سے ہونا تھی۔ یہ معاہدہ آبادی کے تبادلے سے متعلق تھا، جس میں مضایا، زبدانی، کفریا اور فوعہ کے علاقے شامل ہیں۔ اس سے مذاکراتی سپریم کمیشن کے سربراہ ریاض حجاب اور شامی انسانی حقوق کی رصد گاہ کے مابین مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ رصد گاہ نے اعلان کیا ہے کہ معاہدے کے مابین اب پردہ حائل ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں رصد گاہ نے (مذاکراتی سپریم) کمیشن کی جانب سے "شامی عوام کی واپسی اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی” نامی معاہدے میں "کسی بھی صورت” میں شرکت کرنے کی حتمی تردید کی ہے۔

 

پیر 6 رجب 1438 ہجری­ 03 اپریل 2017ء  شمارہ: (14006)
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>