"بحر روم" کی جانب گزرگاہ کو محفوظ بنانے کا ایرانی منصوبہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: منگل, 23 مئی, 2017
0

"بحر روم” کی جانب گزرگاہ کو محفوظ بنانے کا ایرانی منصوبہ

شامی حکومت کی طرف سے فلسطینی ملیشیا دیر الزور کی جانب روانہ

حکومتی حمایت یافتہ عناصر دیر الزور جانے سے قبل کل حلب میں جمع ہو رہے ہیں (حلب نیوز)

 

لندن: "الشرق الاوسط”

      شامی مخالف جماعتوں کی "سپریم مذاکراتی کمیشن” نے یقین دہانی کی ہے کہ ایران نے بحر روم کی جانب زمینی گزر گاہ کو یقینی طور پر محفوظ بنانے کے لئے شام میں "دراندازی” میں اضافہ کر دیا ہے۔ دریں اثناء شامی حکومت نے فلسطینی ملیشیاؤں کو دیر الزور شہر کی جانب روانہ کیا ہے۔

      گذشتہ ہفتے جنیوا میں اقوام متحدہ کے ایلچی اسٹیفن ڈی مستورا کو "کمیشن” کی طرف سے پیش کی جانے والی دستاویز؛ "الشرق الاوسط” کو جس کی ایک کاپی مل گئی تھی، اس میں درج ہے کہ "شامی حکومت کے سربراہ کی منظوری کے بعد 6 اپریل کو شامی حکومتی فوج کی قیادت کی طرف سے ایک یادداشت جاری کی گئی ہے، جس کے مطابق شام میں ایرانی دراندازی کو بڑھانے کے لئے خاص طور سے "گورنریٹ کی سطح پر مقامی دفاعی رجمنٹوں” کے نام سے منسوب ٹیموں کو تشکیل دیا جائے گا جو اس کی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والی ایرانی افواج میں شامل ہوں گی۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ شام میں ایران کی موجودگی کے اسٹریٹجک اہداف ہیں، ان میں مشرق وسطی کے علاقوں میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینا اور لبنان میں اپنے بازو "حزب اللہ” کے سپلائی روٹ کو محفوظ بنانا اور بحر روم پر مستقل بندرگاہ کو محفوظ بنانا ہے”۔

      دوسری جانب اطلاع ملی ہے کہ "فلسطینی القدس بریگیڈ” کے گروپ دیر الزور کی جانب پیش قدمی کی تیاری کر رہے ہیں۔

 

منگل 26 شعبان 1438 ہجری ­ 23 مئی 2017ء  شمارہ: (14056)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>