مشرقی شام میں امریکی فوج کا حملہ اور "برکان البادیہ" نامی جنگ کا آغاز - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 24 مئی, 2017
0

مشرقی شام میں امریکی فوج کا حملہ اور "برکان البادیہ” نامی جنگ کا آغاز

"احرار الشام” کی ایک جماعت شام کے بادیہ نامی علاقہ سے میلیشیاؤں کو نکالنے کے لئے "برکان البادیہ” نامی جنگ کا آغاز کرتی ہوئی

بیروت: یوسف دیاب

        امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے داعش کو نشانہ بنانے کے ارادہ سے مشرقی شام میں حملہ کیا ہے اور ان فوج کے حملہ کی وجہ سے تنظیم کے 8 اہلکار کی موت ہو چکی ہے جبکہ اسی وقت "شامی آزاد فوج” نے شام، عراق اور اردن کی سرحدوں سے ایرانی میلیشیاؤں کو بھگانے کے لئے "برکان البادیہ” نامی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔

        شام کی اپوزیشن میڈیا کمیشن نے اطلاع دی ہے کہ اتحاد کے فورسز نے مشرقی دیر الزور کے تابع شہر بوکمال کے احاطہ میں واقع الحمضیہ علاقہ میں دوباره فضائی حملہ کیا ہے جس کی وجہ سے تنظیم داعش کے 8  اہلکار کی وفات ہو چکی ہے۔ پھر اسی وقت فرات پوسٹ کے ذمہدار احمد الرمضان نے واضح کیا ہے کہ دو امریکی ہیلی کاپٹروں نے یہ فضائی کاروائی کرکے داعش کے ساتھ کشمکش کی ہے جس کی وجہ سے داعش کے 8  اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع کے ذرائع (پنٹاگون)  نے اعلان کیا ہے کہ تنظیم داعش کے اہلکار نے دیر الزور کے علاقہ میں دو مہینوں سے اپنی جگہ بنا رکھی تھی اور اس نے پرزور انداز میں یہ بھی کہا ہے کہ سینکڑوں داعش کے اہلکاروں نے رقہ شہر کو چھوڑ کر دیر الزور کے مشرق جنوب میں 50  کیلو میٹر کی دوری پر میادین علاقہ کا رخ کیا ہے۔

بدھ 27 شعبان 1438 ہجری ­ 24 مئی 2017ء  شمارہ: (14057)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>