انسانوں کو درپیش 6 قدرتی خطرات - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 25 مئی, 2017
0

انسانوں کو درپیش 6 قدرتی خطرات

دنیا کی آبادی کا ایک تہائی زلزلوں کے خطرے سے دوچار: یورپی رپورٹ

 

 

لندن: "الشرق الاوسط”

      یورپی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کی آبادی کو چھے بڑے قدرتی خطرات کا سامنا ہے، جن میں میں زلزلے، آتش فشاں پہاڑ، سونامی کی لہریں، طوفانی ہوائیں، ہوا کا طوفانی بگولہ (سائیکلنگ طوفان)  اور سیلاب شامل ہیں۔ تحقیقی مشاہدے کے مطابق دنیا کی آبادی کو سنہ 1975 سے 2015 کے مابین ان خطرات سے دوگنا سامنا کرنا پڑا۔

      یورپی کمیشن کے مشترکہ ریسرچ سینٹر کی طرف سے جاری "انسانی سیارے کا انسائیکلوپیڈیا 2017” کے مطابق دنیا کی آبادی کو سب سے بڑا خطرہ زلزلے سے ہے، دنیا کا ہر تیسرا شخص زلزلے کے خطرے سے دوچار ہے اور سابقہ چالیس سالوں کے دوران اس خطرے میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ یورپ میں 170 ملین افراد یعنی براعظم کی کل آبادی کے تقریبا ایک چوتھائی افراد کو اس خطرے کا سامنا ہے۔

      "انسائیکلومیڈیا” میں مزید لکھا گیا ہے کہ پوری دنیا کے 155 ممالک کے تقریبا ایک ارب انسانوں کو سیلاب کا خطرہ لاحق ہے، جبکہ 414 ملین افراد 220 طوفانی ہوا کے بگولے میں سے کسی ایک جگہ رہتے ہیں۔ سونامی کی لہریں زیادہ تر ایشیائی ساحلوں، اور خاص طور سے جاپان کو متاثر کرتی ہیں۔

 

جمعرات 29 شعبان 1438 ہجری ­ 25 مئی 2017ء  شمارہ: (14058)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>