روس کی "بادیہ جنگ" میں میزائلوں اور طیاروں کے ساتھ مداخلت - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 1 جون, 2017
0

روس کی "بادیہ جنگ” میں میزائلوں اور طیاروں کے ساتھ مداخلت

انقرہ واشنگٹن کی طرف سے شامی کردوں کو مسلح کرنے پر ناراض اور وہ اسے "اتحادی رویہ” شمارہ نہیں کرتا

کل بحیرہ روم سے تدمر پر داغے گئے "کیلیبر” میزائل کی ویڈیو سے لی گئی وہ تصویر جو روسی وزارت دفاع کی طرف سے تقسیم کی گئی (ا.ب.ا)

 

لندن – بيروت – انقرہ: "الشرق الاوسط”

      روس بحیرہ روم سے شام کے وسطی علاقوں پر میزائل اور راکٹ داغتے ہوئے قوت کے ساتھ شام کی "بادیہ جنگ” میں داخل ہو چکا ہے۔ جبکہ امریکہ کی طرف سے شامی حکومت کی حمایت یافتہ ایرانی ملیشیاؤں کو ان علاقوں کے قریب آنے سے منع کیا گیا تھا۔

      کل "شام کی آزاد فوج” کے رہنماؤں نے کہا کہ تدمر اور شامی عراقی اردنی سرحدی مثلث کی جانب ان کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے روس نے ان پر 6 راکٹ داغے ہیں۔۔۔

      یاد رہے کہ امریکہ نے شامی حکومت کی حمایت یافتہ ایرانی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر 18 مئی کو بمباری کی اور گذشتہ منگل کے روز عراق کے قریب بین الاقوامی اتحادیوں کے زیر کنٹرول تنف نامی کیمپ کے قریب آنے سے خبردار کیا تھا۔۔۔

      دوسری جانب ترک وزیر خارجہ مولود جاویش اوغلو نے واشنگٹن کی جانب سے کرد جنگجوؤں کو ہتھیار دینے سے خبردار کیا ہے، کیونکہ انقرہ انہیں "دہشت گرد”  اور اس "امر کو انتہائی خطرناک” قرار دیتا ہے۔  ترک سیکورٹی کونسل نے کل اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے کردوں کے "عوامی حمایتی یونٹس” کو مسلح کرنا، ایک اتحادی ملک کے رویہ کے مطابق نہیں ہے۔

 

جمعرات 6 رمضان المبارک 1438 ہجری­ 01 جون 2017ء  شمارہ: (14065)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>