ٹرمپ کے فیصلہ کے فوری بعد کابل کے سفارتی علاقے میں قتل عام - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 1 جون, 2017
0

ٹرمپ کے فیصلہ کے فوری بعد کابل کے سفارتی علاقے میں قتل عام

                         کل کابل میں دھماکہ کی جگہ پر ایک افغانی (رویٹرز)

 

كابل: "الشرق الاوسط”

      افغانستان کے دارالحکومت کابل کے سفارتی علاقے میں کل صبح رش کے اوقات میں ایک بڑا دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ اس دھماکے میں ڈیڑھ ٹن وزنی دھماکہ خیز مواد والے بم کو استعمال کیا گیا جو جرمن سفارت خانے کے قریب ایک گندے پانی گٹر کے اندر رکھا گیا تھا۔ مقامی حکام کے مطابق ان دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 90 اور 300 سے زائد زخمی ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ابھی بھی لاشوں کی وصولی کا سلسلہ جاری ہے جس سے متاثرین کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق متاثرین میں 11 امریکی شہری بھی شامل ہیں۔

      اس حملے کے نتیجے میں مادی نقصان زیادہ تر غیر ملکی سفارت خانوں کو پہنچا جن میں جرمنی، فرانس، جاپان، ترکی، متحدہ عرب امارات، بھارت اور بلغاریہ شامل ہیں۔ تحریک طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری سے انکار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ جبکہ تنظیم داعش؛ جس نے گذشتہ مہینوں کے دوران کابل میں کئی خونریز حملے کیے، اس نے فوری طور پر کل کوئی موقف ظاہر نہیں کیا ہے۔

      یاد رہے کہ یہ حملہ اس وقت میں ہوا ہے کہ جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ افغانستان میں مقامی فوج کو تربیت دینے کے لئے تین ہزار سے پانچ ہزار اضافی فوجیوں کو بھیجنے کی سفارش پر غور کر رہے تھے۔

 

جمعرات 6 رمضان المبارک 1438 ہجری­ 01 جون 2017ء  شمارہ: (14065)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>