عراق میں غیر ملکی "داعش" کے "نامعلوم ولدیت والے بچوں" کا کردار - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 7 جون, 2017
0

عراق میں غیر ملکی "داعش” کے "نامعلوم ولدیت والے بچوں” کا کردار

 

بغداد: "الشرق الاوسط”

      "داعش” کے زیر کنٹرول عراقی علاقوں میں دن بہ دن ان کی خرابیاں ظاہر ہو رہے ہیں۔ حالیہ وقت میں عراقی حکومت کو انتہا پسند تنظیم کے عناصر اور خاص طور سے غیر ملکی عناصر کے خاندانوں، ان سے شادی کرنے والی عراقی خواتین اور ان کے بچوں کے بارے میں سنگین سماجی مشکلات کا سامنا ہے۔

      مسلح گروپوں کے ماہر محقق اور اس قسم کی شادیوں کے بارے میں تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ہشام الہاشمی کا کہنا ہے کہ تنظیم کی جانب سے چھوڑی گئی دستاویزات میں پائے جانے والے ریکارڈ کے مطابق تقریبا 3700 شادیوں کو تنظیم کی عدالتوں میں رجسٹرڈ کروایا گیا، جبکہ بہت سی شادیوں کو رجسٹرڈ ہی نہیں کروایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ "عراق میں "داعش” کے ساتھ مل کر لڑنے والے عناصر 68 غیر ملکی شہریت کے حامل ہیں، جبکہ غیر ملکیوں سے شادی کرنے والی خواتین کی اکثریت کا تعلق مغربی موصل اور تلعفر کے علاقوں سے ہے جن کی اکثریت ترکمان ہے، سب سے زیادہ شادی کی کاروائیاں ترکمانی نسل کے آذربائیجانی عناصر سے ہوئیں”۔

      عراقی حکام ان بچوں کے نسب کی تصدیق کرنے سے قاصر ہیں جن کے والد عراق چھوڑ چکے ہیں یا قتل ہو چکے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ریاست مجبور ہے کہ وہ انہیں نامعلوم ولدیت والے بچوں کے قانون کے ضمن میں لے اور اس طرح ان کے لئے مخصوص کردار وضع کرے۔

 

بدھ 12 رمضان المبارک 1438 ہجری­ 07 جون 2017ء   شمارہ: (14071)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>