شام میں امریکی – روسی تصادم سے بچاؤ کی کوششیں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: منگل, 20 جون, 2017
0

شام میں امریکی – روسی تصادم سے بچاؤ کی کوششیں

تہران کے بیلسٹک پیغام پر واشنگٹن مشتعل ۔۔۔ اور درعا میں جنگ بندی میں جزوی توسیع

            روسی دھمکیوں کے بعد کل امریکی چیف آف جوائنٹ سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ (ا۔ب۔ا)

 

لندن – ماسکو – واشنگٹن – تہران: "الشرق الاوسط”

      شام کی پرہجوم فضاؤں میں طرفین کے جہازوں کے درمیان "تصادم سے بچاؤ” کے اتفاق کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے واشنگٹن اور ماسکو کے مابین بھرپور رابطے جاری ہیں، جو کہ روس کی جانب سے اس معاہدے پر عمل کو معطل کرتے ہوئے دریائے فرات کے مغربی جانب امریکی طیاروں کی پروازوں کو روکنے کے اعلان کے بعد ہے۔

      امریکی مرکزی کمان کے ایک ترجمان لیفٹیننٹ جنرل ڈیمین بیکرٹ نے کہا: "شامی حکومت کی حمایت یافتہ افواج اور روسی افواج کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں ہم نے جرأت مندانہ اقدامات اٹھائے ہیں، اور اپنے فضائی عملے کی حفاظت کے ساتھ ساتھ "داعش” کے عناصر مسلسل نشانہ بنانے کے لئے شام کے اوپر جہازوں کے راستوں کو تبدیل کر دیا ہے”۔ واشنگٹن نے یقین دہانی کی ہے کہ "اس کی کوشش نہیں کہ وہ شامی حکومتی افواج، یا حکومت کی حمایت یافتہ افواج، یا روسی افواج کے ساتھ لڑے لیکن وہ اتحادی افواج یا شریک افواج کے دفاع سے ہرگز نہیں ہچکچائے گا”۔  بعد میں کل، وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ شام میں” واشنگٹن اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے”، "تصادم کو روکنے کے لئے روس کے ساتھ کھلے رابطے جاری رکھنے” کی دعوت دی ہے۔

منگل 25 رمضان المبارک 1438 ہجری ­ 20 جون 2017ء  شمارہ: (14084)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>