"داعش" کی جانب سے موصل کی جامع مسجد نوری اور اس کے تاریخی مینار تباہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 22 جون, 2017
0

"داعش” کی جانب سے موصل کی جامع مسجد نوری اور اس کے تاریخی مینار تباہ

                          کل پرانے موصل میں لڑائی سے بھاگتے ہوئے عراقی (ا.ف.ب)

 

موصل: "الشرق الاوسط”

      کل تنظیم داعش نے عراق کے شہر موصل کے مرکز میں واقع جامع مسجد نوری اور اس کے تاریخی "حدبا” مینار کو تباہ کر دیا ہے۔ جبکہ عراقی افراج نے پرانے شہر کے وسط میں مسلح افراد کا محاصرہ کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر تنظیم کو خطرہ تھا کہ یہ علاقہ ان کے کنٹرول سے نکل جائے گا جبکہ وہ 3 سالوں سے اس پر قابض تھی۔

      "آ رہے ہیں نینوی” نامی آپریشن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبد الامیر رشید یار اللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "دہشت گرد داعش کے گروہوں نے ایک اور تاریخی جرم کا ارتکاب کیا ہے اور یہ جامع مسجد نوری اور اس کے تاریخی مینار (حدبا) کو تباہ کرنا ہے۔ لیکن تنظیم کی طرف سے اس کی نیوز ایجنسی "اعماق” میں شائع ایک بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ "امریکی فضائی حملے میں مسجد اور مینار کو تباہ کیا گیا ہے”، باوجود اس کے کہ اس نے پہلے مینار کو تباہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی جس پر وہاں کے رہائشیوں نے انسانی ڈھال بنا کر انہیں اس کام سے منع کیا تھا۔

      کل وفاقی پولیس فورس نے جامع مسجد نوری کی جانب پیش قدمی کی اور کہ وہ صرف 50 میٹر کے فاصلے پر تھی۔ یاد رہے کہ تنظیم کے رہنما ابوبکر البغدادی نے 3 سال قبل اسی مسجد کے منبر سے اپنی مبینہ "خلافت” کا اعلان کیا تھا۔

جمعرات 27 رمضان المبارک 1438 ہجری­ 22 جون 2017ء شمارہ: (14086)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>