"حدبا حادثہ" میں کوئی بھی زندہ نہیں بچا - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 23 جون, 2017
0

"حدبا حادثہ” میں کوئی بھی زندہ نہیں بچا

موصل میں پرانے شہر کی دو تصویریں جن میں سے پہلی گذشتہ منگل کی تصویر میں حدبا مینار نظر آرہا ہے اور دوسری "داعش” کی جانب سے مینار کو تباہ کئے جانے کے بعد اس کے بغیر (ا.ف.ب)

 

اربيل – بغداد: "الشرق الاوسط”

کل سول ڈیفنس کی ٹیموں نے عراق کے شہر موصل کی مرکزی مسجد نوری اس کے تاریخی مینار "حدبا” اور اس کے ارد گرد گھروں کے ملبے سے درجنوں شہریوں کی لاشوں کو نکال لیا ہے، جس کے بارے میں عراقی حکام نے مسلح تنظیم داعش پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے بدھ کی شام انہیں تباہ کر دیا تھا۔

موصل میں "کردستانی قومی یونین” کے اطلاعاتی ذمہ دار غیاث سورجی نے "الشرق الاوسط” کو بتایا کہ سول ڈیفنس اور افواج کی ٹیموں نے ابھی تک "تقریبا سو افراد کی لاشوں” کو نکال لیا ہے لیکن ابھی بھی مزید لاشیں مسجد کے علاقے میں پرانے گھروں؛ جو "دھماکے کی وجہ سے گر گئے تھے”، ان کے ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسجد کے قریب رہنے والے شہریوں میں سے "کوئی بھی زندہ نہیں بچا ہے”۔

جمعہ 28 رمضان المبارک 1438 ہجری­ 23 جون 2017ء شمارہ: (14087)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>