واشنگٹ: دوحہ کے ذریعہ مطالبات کی فہرست پر نظر ثانی جاری - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 26 جون, 2017
0

واشنگٹ: دوحہ کے ذریعہ مطالبات کی فہرست پر نظر ثانی جاری

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسون

واشنگٹن: ہبہ القدسی

        کل امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قطر نے ان مطالبات پر نظر ثانی کرنا شروع کر دیا ہے جن کو بحرین، مصر، سعودی اور امارات نے پیش کیا ہے اور ان عربی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کرنے کے لئے پیش کردہ مطالبات میں 13 بند شامل ہیں۔ امریکی وزیر ان چاروں ملکوں اور قطر کو اپنے اختلافات کو حل کرنے کے لئے ایک ساتھ مل بیٹھ کر غور وفکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اگر یہ ممالک ایک ساتھ مل بیٹھ کر گفتگو کریں تو آئندہ اقدام بہت کارگر ثابت ہوگا اورانہوں نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ ریاسہائے متحدہ امریکہ ان مذکورہ ملک میں سے ہر ملک کے ساتھ رابطہ کرے گا۔

        کل ترکی کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے کیونکہ اس نے قطر کی حمایت کرنے کا اظہار کیا ہے اور اس کی وجہ اس توسط کو نقصان پہنچا ہے جس نے اس مسئلہ کے سلسلہ میں اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ کل ترکی صدر رجب طیب اردوغان نے استنبول میں عید کی نماز کے بعد میڈیاء سے کہا ہے کہ ان کا ملک پیش کردہ مطالبات کی فہرست کے سلسلہ میں قطر کی تائید کرے گا اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ سارے مطالبات بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں۔ اردوغان نے بیان کردہ بندوں میں قطر سے ترکی فوج کے نکل جانے سے متعلق بند کو ترکی کے حق میں احترام نہ کرنے کے مترادف ہے۔

پیر 2 شوال 1438 هـ ­ 26 جون 2017ء  شمارہ: (14090)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>